Sha ast hussain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Nisar Irani
شاہ است حُسین بادشاہ است حُسین
دیں است حُسین دیں پناہ است حُسین
سر داد نہ داد دست در دست یزید
حقا کہ بنائے لا الہ است حُسین
جب وعدہ ء طفلی کو وفا کر چکے شبیر
خنجر کے تلے شکر خدا کر چکے شبیر
سر معرکہ کربوبلا کر چکے شبیر
امت کے لئے حق سے دعا کر چکے شبیر
تیروں نے سمیٹا شہ بے کس کا مصلہ
تھرای زمیں کانپ اٹھا عرش معلیٰ
شاہ است حُسین۔۔۔
جو کام تھا بھائی کا بہن نے وہ سنبھالا
جلتے ہوئے خیمے سے بھتیجے کو نکالا
دم توڑ گیا سامنے ہر گود کا پالا
لب پر نہ بھر آیا دل بے تاب کا نالہ
اے نالہ کناں زینب دلگیر تھی زینب
ہاں ناصراے مقصد شبیر تھی زینب
شاہ است حُسین۔۔۔
ناگاہ سوار اک نظر سامنے آیا
تھرانے لگی جانے دل فاطمہ زہرا
بولی کہ خبردار وہی روک لے گھوڑا
رو رو کے ابھی سوے ہیں معصوم ترس کھا
کہہ دے ابن سعد سے لللہ تو جا کر
کل دن کے اجالے میں ہمیں لوٹ لے آکر
شاہ است حُسین۔۔۔
جب سر میرے بھائی کا کٹا آپ کہاں تھے
جب خاتمہ اکبر کا ہوا آپ کہاں تھے
پامال ہوا ابنِ حسن آپ کہاں تھے
ٹکڑے ہوا عباس کا تن آپ کہاں تھے
بیوہ ہوی اک شب کی دلہن آپ کہاں تھے
آجاتے تو اس طرح نہ تقدیر بدلتی
یوں پیاسوں کے حلقوں پہ شمشیر نہ چلتی
شاہ است حُسین۔۔۔
باتیں جو سنی بیٹی کی اشعار پکارا
زینب میں تیرا باپ ہوں پہچان خدارا
کن آنکھوں سے دیکھوں میں جگر سوز نظارہ
تو دکھ سہے اور مجھکو ہو آرام گنوارا
شب بھر میں تیرے خیموں کا دربان رہوں گا
تا صبح اسی دشت میں مہمان رہوں گا
شاہ است حُسین۔۔۔
چادر جو چھنی ثاقیء کوثر کو پکارا
قاسم کو صدا دی علی اکبر کو پکارا
ہر ظلم میں عباس دلاور کو پکارا
جھولے میں لگی آگ تو اصغر کو پکارا
روتی تھی کوی بی بی تو دیتے تھے دلاسے
چوکھٹ پہ نہ معصوم ابھی سوے ہیں پیاسے
شاہ است حُسین۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.