Sawaar kho gaye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Raza Abbas Zaidi
یہ مرتجز سے کہا جب عقاب و اشعل نے
بیاں ہوں کیسے جو منظر دکھائے مقتل نے
کیا سواروں پہ سایہ غموں کے بادل نے
ہمیں رلایا ہے ہر اک قدم ہر پل نے
کسی بھی حال میں ہوگا نہ کم ملال اپنا
بیان کرتے ہیں اک دوسرے سے حال اپنا
سوار کھو گئے اور راہوار روتے رہے
ہاے علی اکبر ہاے علی اکبر
یہ روکے کہنے لگا راہوار اکبر کا
بپا تھا خیموں میں کہرام کیسا منظر تھا
میں جب شبیہ محمد کو لیکے رن کو چلا
تھے پیچھے پیچھے میرے بادشاہِ کربوبلا
صدا یہ آتی تھی کچھ دیر تو رکو اکبر
پلٹ پلٹ کے مجھے دیکھتے رہو اکبر
سوار کھو گئے۔۔۔
کہا عقاب نے میداں میں یوں لڑے اکبر
ادھر سروں کو اُڑایا اُدھر بڑھے اکبر
لگی جو سینے میں برچھی تو گر گئے اکبر
میں دیکھتا ہی رہا پھر نہ اُٹھ سکے اکبر
صدائیں رونے کی آنے لگیں مدینے سے
جو کھینچی باپ نے برچھی پسرکے سینے سے
سوار کھو گئے۔۔۔
ہاے عباس ہاے عباس
یہ سنکے اشعلِ عباس روکے کہنے لگا
اُٹھائے مشک و علم جب چلے میرے مولا
نظر میں رعب تھا ہاتھوں میں ایک نیزہ تھا
لبِ فرات پہنچ کر بھرا جو مشکیزہ
وہ مجھسےکہتے تھے اشعل سکینہ پیاسی ہے
مجھے خیام میں لے چل سکینہ پیاسی ہے
سوار کھو گئے۔۔۔
قدم جو میں نے بڑھائے تو شور اُٹھنے لگا
نہ جائے خیمے میں عباس سب کرو حملہ
کٹے جو ہاتھ علم خاک پر ہوا ٹھنڈا
چھدی جو مشک تو پانی بھی بہ گیا سارا
لگا جو گرز تو پھر نا سمبھل سکے مولا
زمیں پہ زین سے چہرے کے بل گرے مولا
سوار کھو گئے۔۔۔
ہاے حسین ہاے حسین
کہا حسین کے رہوار نے یہ روتے ہوئے
غریبِ زہرا جو مقتل کی سمت جانے لگے
کیا تھا ثانی زہرا نے خود سوار آکے
کہا حسین نے اے مرتجز بڑھو آگے
قدم میں کیسے بڑھاتا سکینہ لپٹی تھیں
نہ لیکے جا میرے بابا کو مجھسے کہتی تھیں
سوار کھو گئے۔۔۔
میں اپنے مولا کو مقتل میں لیکے جب پہنچا
عجیب خوف تھا دشمن پہ شیرِ حیدر کا
اکیلے پیاسے کو لاکھوں نے ملکے گھیر لیا
ہوا غریب پہ چاروں طرف سے یوں حملہ
ہو گرم خاک یا پتھر ہو تیر یا نیزہ
جو جسکے ھاتھ میں آیا حسین کو مارا
سوار کھو گئے۔۔۔
گرے زمین پہ تو سیدہ نے تھام لیا
پہنچ کے شمر نے خنجر گلے پہ جب رکھا
تڑپ کے اُس گھڑی ظالم سے سیدہ نے کہا
نہ مار لال میرا تین دن کا ہے پیاسہ
صدائیں دیتی رہی ماں نہیں رُکا خنجر
میں خاک اُڑاتا رہا کٹ گیا حسین کا سر
سوار کھو گئے۔۔۔
تھا مرتجز کا یہ زیشان اور رضا نوحہ
اکیلا لوٹ کے خیموں میں جب میں آیا تھا
سکینہ سمجھی کے مقتل سے آگئے بابا
نظر نہ آئے جو بابا تو مجھسے روکے کہا
ہے چور زخموں سے کیوں تو نے سر جھکایا ہے
بتا کہاں میرے بابا کو چھوڑ آیا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.