Sattar qadam se
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Kazmi Brothers
پیاسے گلے پہ بھائی کے چلتی رہی چھری
ستّر قدم سے پیاسی بہن دیکھتی رہی
کہتی تھی کیا اسی لئے پیسی تھی چکیاں
چادر سے صاف کرتی تھی زخموں کو رو کے ماں
زخمی سرِ حسین تھا زہرا کی گود تھی
ستّر قدم سے پیاسی۔۔۔
روکے ہوئے تھے پیار میں خنجر کی دھار کو
بیٹے سے کتنا پیار تھا دلدل سوار کو
رکھے ہوئے تھے شہہ کے گلے پر گلا علی
ستّر قدم سے پیاسی۔۔۔
خنجر سے شہہ کی زلفیں ہٹانے لگا لعیں
داڑھی کی سمت ہاتھ بڑھانے لگا لعیں
آنکھوں پہ ہاتھ رکھے ہوئے تھا ہر اک نبی
ستّر قدم سے پیاسی۔۔۔
مقتل میں چار سال کی زہرا کو گود میں
اک بار پھر اٹھا لے سکینہ کو گود میں
افسوس قاتلوں سے اجازت نہیں ملی
ستّر قدم سے پیاسی۔۔۔
چہرہ وطن کی سمت وہ کرتا تھا بار بار
آنکھوں میں تھا بھرا ہوا صغرا کا انتظار
ہائے غریبِ زہرا کی آنکھیں کھلی ہوئی
ستّر قدم سے پیاسی۔۔۔
کہتا تھا وہ اشاروں میں زینب سے جاؤ گھر
آنکھوں کو بند کرلو کہ کٹ جائے میرا سر
سینے پہ شہہ کے زانو تھا رکھے ہوئے شقی
ستّر قدم سے پیاسی۔۔۔
لاشہ فرات پر کبھی اٹھا کبھی گرا
کرب و بلا میں حشر تکلم بپا ہوا
عباس تم کہاں ہو صدا جب یہ شہہ نے دی
ستّر قدم سے پیاسی۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.