Roze ashoora
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Hasan Sadiq
روز عاشورا صبح کو دی جو اکبر نے اذاں
شامیوں نے ہاے سمجھی نہ رسالت کی زباں
ڈھونڈتی پھرتی ہے لاشوں میں سکینہ باپ کو
ہاے بابا میرا بابا بولو بابا ہو کہاں
روز عاشورا صبح۔۔۔
سامنے لاشیں پڑے ہیں وارثوں کے جا بجا
ایک جلے خیمے میں بیٹھی ہے علی کی بیٹیاں
روز عاشورا صبح۔۔۔
رکھ کے سر آغوش میں عباس سے شاہ نے کہا
میں تیرے صدقے برادر ہے تیرے بازو کہاں
روز عاشورا صبح۔۔۔
موت کہتی تھی مبارک ہو تمہیں ام رباب
مسکرا کر توڑ دی اصغر نے حرملہ کی کماں
روز عاشورا صبح۔۔۔
پڑھ کے خط صغرا کا شاہ نے لاش اکبر سے کہا
جا بلاتی ہے تجھے اجڑے گھروں کی پاسباں
روز عاشورا صبح۔۔۔
کر کے منہ سوے مدینے ام لیلیٰ نے کہا
آؤ صغرا بن چکے دولہا تمہارے بھای جاں
روز عاشورا صبح۔۔۔
یا خلیل اللّٰہ زرا یہ حوصلہ تو دیکھیےء
کھینچتے شبیر ہیں سینۂ اکبر سے سناں
روز عاشورا صبح۔۔۔
چھین لی شمر ستمگر نے طمانچے مار کر
باپ نے تو پیار سے پہنای تھی جو بالیاں
روز عاشورا صبح۔۔۔
اس لیےء لاے نہیں خیمے میں اصغر کو حسین
دیکھ لی ٹوٹی ہوی گردن تو مر جاۓ گی ماں
روز عاشورا صبح۔۔۔
ہے رسن بستہ سروں میں خاک ہے سب کے نثار
شام کی جانب چلا آل نبی کا کارواں
روز عاشورا صبح۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.