Ran se wapas
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Mukhtar Hussain Fatehpuri
رن سے واپس میرے بابا نہیں آنے والے
مجھ پہ اب ساے یتیمی کے ہیں چھانے والے
صبح سے دیکھ رہی ہے یہ سکینہ بابا
رن میں ہے چاروں طرف پھیلا قضاء کا سایہ
لوٹ کر زندہ نہیں آے ہیں آنے والے
رن سے واپس۔۔۔
آپ جس طرح مجھے سینے لگا کر روے
خاک پہ جیسے سکینہ کو سلا کر روے
ہے یہ انداز یتیموں کو سلانے والے
رن سے واپس۔۔۔
آپ نے جب سے ہیں رخصت کا ارادہ باندھا
جانے کیوں دکھنے لگا ہے میرا چہرہ بابا
نیل جیسے میرے چہرے پہ ہو جانے والے
رن سے واپس۔۔۔
جیسے خط اک چچا ابنِ مظاہر کو لکھا
بھیج کر خط میرے خاطر ہوی بلا لے بابا
رہ گےء ہو جو کوئی دوست بلانے والے
رن سے واپس۔۔۔
آپ کے سینے سے لگتی ہوں تو یوں لگتا ہے
زخم ہی زخم ہے زخموں سے لہو بہتا ہے
جیسے اس سینے میں ہے تیر سمانے والے
رن سے واپس۔۔۔
میری چادر میرے بالوں سے ہٹاتے کیوں ہے
ریت کا پردہ میرے سر پہ بناتے کیوں ہے
کب ردا کرتے ہیں یوں شہ کہ گھرانے والے
رن سے واپس۔۔۔
شہ سے لپٹی ہوی کہتی تھی سکینہ اکبر
ہو نہ ہو آپ پہ برساینگے اعدا مل کر
جتنے پتھر ہیں یہ مقتل سے اٹھانے والے
رن سے واپس۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.