Qayamat hai ke laashe
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Mirza Sikander Ali
قیامت ہے کے لاشِ شاہِ دین کروٹ بدلتی ہے
کھُلے سر رن میں بنتِ فاطمہ زہرا نکلتی ہے
حرم لُٹتے ہے اور ویران ہوتا ہے نبی کا گھر
مسلمانوں کے ہاتھوں چادرِ تطہیر جلتی ہے
قیامت ہے کے ۔۔۔
ذرا آہستہ کھینچو ناوقِ اب تیر اصغر کا
پدر کی گود میں اب گردنِ بے شیر ڈھلتی ہے
قیامت ہے کے ۔۔۔
بھڑک اُٹھتے ہیں شعلے آگ لگ جاتی ہے پانی میں
دوہائی ہے کے خیمے میں سکینہ جب مچلتی ہے
قیامت ہے کے ۔۔۔
کہاں ہے حضرتِ قاسم ذرا دولہن کو دیکھو تو
کہ شب کی بیاہی اپنی مانگ میں اب خاک ملتی ہے
قیامت ہے کے ۔۔۔
علی اصغر نے شاید کہہ دیا یہ زیرِ لب ہنس کر
میری تشنہ لبی پر تشنگی بھی ہاتھ ملتی ہے
قیامت ہے کے ۔۔۔
گواہی تا قیامت دے گا یہ عاشور کا سورج
قیامت کی تپش زنجیر لوہے کی پگھلتی ہے
قیامت ہے کے ۔۔۔
نمازیں دونوں عالم کی تصدق تیرے سجدے پر
گُلوئے اشھدُان لا الہ پر تیغ چلتی ہے
قیامت ہے کے ۔۔۔
کہاں ہیں حضرتِ ایوب وابراہیم اے مرزا
پدر کے سامنے کڑیل جواں کی جاں نکلتی ہے
قیامت ہے کے ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.