Qatl gaahe imam
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Raza Abbas Zaidi
حسین والوں سنو یہ ہے قتل گاہِ حسین
تڑپ رہا تھا یہیں پر علی کے دل کا چین
اِسی مقام پہ زہرا یہ کر رہیں تھیں بین
نہ قتل کر میری گودی میں میرا نورِ عین
یہاں تلک سنو کیسے حسین آیا تھا
لعین کھینچ کے بالوں سے اُسکو لایا تھا
طمانچہ مارکے سینے پہ جب سوار ہوا
تڑپ کے رہ گئے شبیر صرف اتنا کہا
اُترجا سینے سے ظالم نہ ظلم کر ایسا
ہے میرے سینے پہ بس حق میری سکینہ کا
یہاں پہ آئی تو مرجائیگی وہ رو رو کر
سکینہ دیکھ نہ لے تجھکو میرے سینے پر
کبھی بدن پہ وہ خنجر سے وار کرتا تھا
کبھی حسین کے زخموں پہ خاک ڈالتا تھا
پھر اپنے پاؤں سے زخموں کو جب مسلتا تھا
علی کا بیٹا وہاں بار بار مرتا تھا
غریبِ زہرا جب عباس کو پکارتا تھا
لعین داڑھی پکڑ کر طمانچہ مارتا تھا
اسی مقام سے ستر قدم تھی دور بہن
پکارتی رہی نا کاٹ شمر سوکھا دہن
تو جانتا ہے بہت دور ہے ہمارا وطن
میں لیکے آؤنگی اسکے لئے کہاں سے کفن
وہاں حسن کو ملے دو کفن میں بھولی نہیں
یہاں حسین کی قسمت میں اک کفن بھی نہیں
زبان خشک ہے زخمی ہے اسکی پیشانی
جوان بیٹے کے قاتل نے ماری ہے برچھی
ہزاروں زخم یہ کھاکر گرا ہے تھک کے ابھی
ہَوا ہے گرم زمیں تپ رہی ہے مقتل کی
پلادے پانی محمد کا یہ نواسہ ہے
ہے منہ کھُلا ہوا نا جانے کتنا پیاسہ ہے
اے رونے والوں یہ دل تھام کر سنو منظر
چلی چھری تو رکھا ہاتھ ماں نے رو رو کر
گلا سمجھ کے وہ کرتا تھا وار گن کے مگر
ہاں زخم آتے رہے فاطمہ کے ہاتھوں پر
حسین کہتے تھے اماں ہٹالو ہاتھ اماں
گلے پہ چلنے دو خنجر بچالو ہاتھ اماں
تڑپتے رہ گئے مقتل میں دونوں ماں بیٹے
گلے پہ شاہ کے ظالم نے تیرا وار کئے
بیان حال ہو ذیشان اور رضا کیسے
ابھی تلک تو بہن اُٹھ رہی تھی گِر گِر کے
سرِ حسین کٹا دیکھ نا سکی زینب
زمیں پہ ایسے گری جیسے مرگئی زینب
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.