Maqtal imam husain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Mir Sajjad Mir
اے رونے والوں آئیں گی محشر میں فاطمہ
بی بی کا حال دیکھ کے روئیں گے انبیا
پوچھیں گے ہاتھ پہلو پہ کیوں ہے رکھا ہوا
کیوں جھک کے چل رہی ہے بھلا کیا ماجرا
آواز آئگی یہ شہ مشرقین کی
سب نظروں کو جھکاؤ یہ ماں ہے حسین کی
محشر میں ایک حشر اٹھائیں گی فاطمہ
اک داستانِ ظلم سنائیں گی فاطمہ
روئیں گی اہلِ غم کو رلائیں گی فاطمہ
ننھا سا ایک لاشہ دکھائیں گی فاطمہ
پوچھیں گے سب یہ کس کا تنِ پاش پاش ہے
بی بی کہیں گی یہ علی اصغر کی لاش ہے
پھر بی بی بڑھ کے عرش کا پایا ہلائیں گی
بیٹے کا اپنے خوں بھرا کرتا دکھائیں گی
ہاتھوں پہ دو کٹے ہوئے شانوں کو لائیں گی
انصاف مانگنے کے لیئے ہاتھ اٹھائیں گی
یا رب قصور کیا تھا مرے نورِ عین کا
امت سے پوچھ کاٹا گلا کیوں حسین کا
ہوگی صدائے غیب سنو فاطمہ سنو
تم خوں بہا حسین کا جو چاہیے وہ لو
لیکن ہمارےسامنے تم اسطرح نہ رو
بولیں گی سیدہ یہ گزارش قبول ہو
کھل جائے ایک ایک پہ غربت حسین کی
یارب دکھا دے سب کو شہادت حسین کی
سب کو دکھائی جائے گی پھر عصر کربلا
مظلوم خوں میں ڈوبا نظر سب کو آئگا
زہرا کہیں گی دیکھیے بابا ادھر ذرا
یہ آپکا حسین ہے فوجوں میں گھر گیا
اک پل نہیں تھا چین مرے دل کے چین کو
نو لاکھ مل کے مار رہے تھے حسین کو
سینے پہ کتنے زخم تھے تیروں کے دیکھیے
لیتاتھا سانس بہتے تھے فوارے خون کے
اس پر بھی اہل شام کے حملے کہاں رکے
بیکیس پہ ایسا وار کیا اک لعین نے
دندان بھی شہید ہوئے نور عین کے
ایسے لبوں پہ مارا تھا پتھر حسین کے
زخموں کی سمت ریت اڑا کر کوئی بڑھا
کوئی چلا کے بازو پہ خنجر گزر گیا
تلوار کوئی مار کے مظلوم کو ہنسا
ان ظالموں میں اک بن کاہل لعین تھا
اس نے کیا وہ وار کہ مظلوم ڈھل گیا
سب پسلیوں کو توڑ کے نیزہ نکل گیا
وہ درد تھا کہ زین پہ بیٹھا نہیں گیا
اس نے اترنا چاہا پر اترا نہیں گیا
پاؤں رکاب سے بھی نکالا نہیں گیا
ایسے کسی کو رن میں گرایا نہیں گیا
جب حرملا کا تیر لگا تھا جبین پر
گھؤڑے سے منہ کے بل گرا پیاسہ زمین پر
مظلوم کے سرہانے گیا شمر بد گوہر
بیکس کو مارتا تھا وہ ٹھوکر ادھر ادھر
لایا وہ قتل گاہ تلک زلفیں کھینچ کر
زینب پہ اسکی نظریں تھیں زانو حسین پر
زہرا کی بیٹیوں کے دلوں کو دکھاتا تھا
دڑھی پکڑ کے شمر تمانچے لگا تا تھا
ٹہرا نہ منتوں سے بھی بابا وہ بد صفات
غربت میں اپنے لعل کا چھؤڑا نہ میں نے ساتھ
سب کو تو بس پتا ہے کہ زخمی ہیں میرے ہاتھ
بابا قریب آئیں بتاؤں اک اور بات
زخمی نہیں ہیں ہاتھ فقط دل ملول کے
خنجر چلا ہے بابا گلے پر بتول کے
پہلی چلی جو ضرب تو سب انبیا ہٹے
تھی دوسری ہی ضرب حسن بھی نہیں رکے
وہ ضرب تیسری تھی علی جس پہ رو پڑے
بس بابا چوتھی ضرب تلک آپ ساتھ تھے
پھر اسکے بعد میں تھی مرے دل کا چین تھا
خنجر تھا میری جھولی تھی میرا حسین تھا
سجاد حشر ہوگا جو روئیں گے خود نبی
بولیں گی زہرا ختم مصیبت کہاں ہوئی
لوٹی ہے سب لاش غریب الدیار کی
بابا مرے حسین کی توہین کی گئی
انگشتری پہ نظریں تھیں اک بدنصیب کی
انگللی لعیں نے کاٹی ہے میرے غریب کی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.