Naizey Ka Na Khanjar Ka Na Talwar Ka Sikka
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Mukhtar Hussain Fatehpuri
نیزے کا نہ خنجر کا نہ تلوار کا سکہ
بھاری ہے ہر اک سکے پہ کردار کا سکہ
یہ کرب و بلا سلطنت تشنہ لبی ہے
اس شہر میں چلتا ہے وفادار کا سکہ
یوسف کی نہیں یہ علی اکبر کی زمیں ہے
ہے خاک یہاں مصر کے بازار کا سکہ
بڑھ بڑھ کے شقی تھک گئے دیوار حرم میں
ہر بار پگھل جاتا ہے دیوار کا سکہ
خیبر سے مٹی سارے مدینے کی غریبی
گھر گھر میں چلا حیدر کرار کا سکہ
اک سمت علی لکھ دیا جب خم میں خدا نے
تب پورا ہوا احمد مختار کا سکہ
رومال میں زہرا نے جسے باندھ رکھا ہے
وہ اشک ہے جنت کے خریدار کا سکہ
تھے خلد کے سکے تو شہیدوں کا مقدر
بیعت کے مقدر میں تھا انکار کا سکہ
صحت کی ضمانت میں کیا کرتے ہیں تقسیم
بیماروں میں ہم عابد بیمار کا سکہ
ماتم کے نشاں ساتھ لیئے جاؤں گا اکبر
کام آئے گا تربت میں عزادار کا سکہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.