Ye Karbala Hai, Ye Karbala Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Karbala recited by Mir Hasan Mir
یہ کربلا ہے، یہ کربلا ہے
یہاں سنبھل کر قدم اٹھانا یہ کربلا ہے، یہ کربلا ہے
یہ بات ہرگز نہ بھول جانا یہ کربلا ہے، یہ کربلا ہے
دعائیں دیں گے حسین تم کو
یہاں پہ آنسو اگر بہائے
جہاں پہ بیٹی نے بے وطن کی
ستمگروں سے طمانچے کھائے
یہاں پہ خوشیوں کو بھول جانا
جہان صبر و رضا یہی ہے
خدائے صبر و رضا یہی ہے
یہاں پہ آتے ہیں چل کے مہدی
بہشت زہرا یہ سر زمیں ہے
یہاں ہے زہرا کا آنا جانا
یہاں پہ حر بھی تھا حرملہ بھی
کتاب ہستی کو پڑھ کے دیکھو
صدا یہ ھل من تو آ رہی ہے
تم اس طرف ہو یا اس طرف ہو
تمہیں عمل سے ہے اب بتانا
یہاں پہ گزری ہے وہ قیامت
ملا نہ اس کو سکون اب تک
ردائیں چھننے کے غم میں عابد
لحد میں روتا ہے خون اب تک
یہاں پہ ہرگز نہ مسکرانا
سواری آئے گی اک وہاں سے
نجف کی جانب نگاہ رکھنا
جب آئے شام غریباں اس دم
علی کو زینب کا پرسہ دینا
تم آنسوؤں کے دیئے جلانا
کہیں پہ قاسم ہوئے ہیں ٹکڑے
کہیں پہ زیں سے گرے تھے مولا
کہیں سکینہ سموں سے لپٹی
کہیں پہ اصغر نے تیر کھایا
یہیں غریبی کا ہے ٹھکانا
رہے کہیں بھی جہاں میں جا کر
حسین والے یہ جانتے ہیں
ہم اہل ماتم کے دل تکلم
یہاں کی مٹی سے ہی بنے ہیں
یہاں ہے واپس پلٹ کے آنا
کسی کے دل میں لگی ہے برچھی
کسی کے بازو کٹے یہیں پر
علی کی بیٹی کے کتنے یوسف
لہو میں ڈوبے ہیں اس زمیں پر
لٹا ہے سادات کا گھرانہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.