Sar-e-Abbas Aata Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mir Hasan Mir
کہا زینب نے یہ رو کر سنبھالو بیبیوں چادر سر عباس آتا ہے
بلا لائے سکینہ کو کوئی زندان سے جا کر
سر عباس آتا ہے
بھرا ہوگا لہو آنکھوں میں
اس کی خود ہٹاؤں گی
میں بچپن کی طرح سے بھائی کا چہرہ دھلاؤں گی
اگر ممکن ہے تو دے دے
کوئی پانی مجھے لا کر
سر عباس آتا ہے
یہ غیرت کا خدا ہے اس کی غیرت کا تقاضا تھا
کھلا سر دیکھ کے نیزے سے جو یہ سر گراتا تھا
نہیں ہے پاس گر چادر
تو رکھ لو ہاتھ ہی سر پر
سر عباس آتا ہے
اسی احساس سے اس نے نظر اپنی جھکائی ہے
اسے معلوم ہے یہ کتنا غیرت مند بھائی ہے
چھپائے کس طرح زینب پڑے ہیں نیل شانوں پر
سر عباس آتا ہے
مجھے اٹھنا پڑے گا بیبیوں تعظیم کو اس کی
میں ماں ام البنیں کی سمت سے غازی کو چوموں گی
سنبھالے سر کوئی عون و محمد کے یہاں آ کر
سر عباس آتا ہے
تھے سب کی جھولیوں میں اپنے اپنے لاڈلوں کے سر
رقیہ، ام لیلی، ام فروا، مادر اصغر
اٹھی کہتے ہوئے ہر ماں
سر اپنے لال کا رکھ کر
سر عباس آتا ہے
ملا پانی اسے پوچھا
تو کیا بتلائے گی زینب
بھلا اس کی بھتیجی کو
کہاں سے لائے گی زینب
نگاہیں اس کی ڈھونڈیں گی سکینہ کو یہاں آ کر
سر عباس آتا ہے
تکلم شامیوں کی عورتیں بھی روتی جاتی ہیں
علی کی بیٹیاں جلدی سے زخموں کو چھپاتی ہیں
کھڑی ہے ہاتھ پھیلائے ہوئے خود زینب مضطر
سر عباس آتا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.