Jab bhi ho Karb o Bala aap ka jana bhaiya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Hasan Mir
آخری بار میرا حال مصیبت سن لو
جب بھی ہو کرب و بلا آپ کا جانا بھیا
بھائی سجاد، سکینہ کی وصیت سن لو
میری روداد چچا جاں کو سنانا بھیا
یہ وصیت میری تم بھول نہ جانا بھیا
وہ اگر پوچھیں میرا حال چچا سے کہنا
میری نیندیں ہوئیں پامال چچا سے کہنا
تازیانوں کا سب احوال چچا سے کہنا
اب بھی نیلے ہیں میرے گال چچا سے کہنا
جو ستم مجھ پہ ہوئے سارے بتانا بھیا
پاؤں جلتے تھے میرے ہوتی تھی ایذا مجھ کو
چھاؤں میں بیٹھنے دیتے نہ تھے اعدا مجھ کو
جب بھی چلتے ہوئے غش دھوپ میں آیا مجھ کو
اونٹ کی پشت سے جلاد نے باندھا مجھ کو
میں بہت روئی مگر شمر نہ مانا بھیا
جب حرم قید ہوئے میں نے چچا کو ڈھونڈا
جب بندھے بارہ گلے میں نے چچا کو ڈھونڈا
جب گوہر میرے چھنے میں نے چچا کو ڈھونڈا
جب مجھے درے لگے میں نے چچا کو ڈھونڈا
وہ اگر ہوتے ستاتا نہ زمانہ بھیا
قید خانے سے ہی منسوب ہے اب ذات میری
ہوگا احسان نبھا دو گے اگر بات میری
چین سے قبر میں کٹ جائے گی ہر رات میری
جیتے جی ان سے نہ ہو پائی ملاقات میری
سر چچا جاں کا میری قبر پہ لانا بھیا
کربلا جاؤ تو ایسا نہیں ہونے دینا
ان کو تنہائی کا صدمہ نہیں ہونے دینا
میرے عمو کو اکیلا نہیں ہونے دینا
قبر غازی پہ اندھیرا نہیں ہونے دینا
اک دیا میری طرف سے بھی جلانا بھیا
میرے احساس غریبی سے بچانا ان کو
یاد وہ وقت مصیبت نہ دلانا ان کو
میرا احوال کنیزی نہ سنانا ان کو
ہاشمی شیر ہیں مت یاد دلانا ان کو
میں نہیں چاہتی پھر حشر اٹھانا بھیا
قید سے چھوٹ کے جب کرب و بلا جاؤ گے
پہلے تو کرنا سلام ان کو میری جانب سے
پھر بتانا کہ یہ دن کیسے گزارے میں نے
اور جب پھول چڑھانے لگو اس تربت پے
میری جانب سے ردا میری اڑھانا بھیا
سن کے عارف یہ وصیت تھی قیامت برپا
لاش عباس تڑپتی تھی سر کرب و بلا
اور سجاد کی آنکھوں سے لہو جاری تھا
جس گھڑی بالی سکینہ نے یہ آہستہ کہا
میری میت کو اندھیرے میں اٹھانا بھیا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.