Kya Likha Fatima Sughra Ne Bataya Na Gaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Mir Hasan Mir
کیا لکھا فاطمہ صغری نے بتایا نہ گیا
شہ سے خط لاشہء اکبر پہ سنایا نہ گیا
شہ نے چاہا تو بہت زخم مگر اتنے تھے
لاشہ عباس کا دریا سے اٹھایا نہ گیا
جب تلک آ نہ گئے سارے شرابی تب تک
ثانیء زہرا کو دربار میں لایا نہ گیا
دیکھا سیراب ذبیحے کو تو بولے سجاد
میرے بابا کو تو پانی بھی پلایا نہ گیا
ایک شبیر کی بیٹی کے سوا دنیا میں
ہائے کسی معصومہ کو ناقے سے گرایا نہ گیا
بھیڑ اس درجہ تھی ہنستے ہوئے لوگوں کی وہاں
ہائے سر بھی بازار میں عابد سے اٹھایا نہ گیا
باپ کا سر جو ملا سوئی لپٹ کر ایسے
ماں سے بھی بالی سکینہ کو جگایا نہ گیا
میر سجاد شاہ دیں سے علی اصغر کا
چہرہ جلتی ہوئی ریتی سے چھپایا نہ گیا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.