Maa sochti hai kaise tamanna bayan ho
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Asghar Khan
ماں سوچتی ہے کیسے تمنا بیان ہو
اک شب میں کس طرح میرا اصغر جوان ہو
کہتی تھی ماں کہ ایسے تبسم سے لینا کام
دنیا یہ کہہ نہ پائے کہ تم بے زبان ہو
پوچھے کوئی حسین سے جب تیر آتا ہے
کیا ہوتا ہے جب بیٹا کوئی درمیان ہو
نبضوں پہ ہاتھ رکھے پدر دیکھتا رہا
شاید کہ بعد تیر بھی اصغر میں جان ہو
اصغر کے بعد حلق پہ ایسے تھا ماں کا ہاتھ
جیسے گلے پہ تیر کا کوئی نشان ہو
پانی کی چند بوندیں ہیں اصغر کی زندگی
گر لشکر ستم میں کوئی مہربان ہو
ممکن نہیں کہ صاحب اولاد چپ رہے
اکبر جہاں شہادت اصغر بیان ہو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.