Bazar mein Zainab ne marne ki dua mangi
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Mir Hasan Mir
بازار میں زینب نے مرنے کی دعا مانگی
جب شام کے لوگوں سے عابد نے ردا مانگی
رخسار سکینہ کے کچھ اور ہوئے نیلے
جب سائے میں آنے کی بچی نے رضا مانگی
جو راہ میں چبھتے تھے عباس کی بہنوں کو
ان کانٹوں نے خود رو کر مہدی سے سزا مانگی
ہائے اپنے لئے دونوں نے امت سے نہ کچھ مانگا
زینب نے کفن مانگا سرور نے ردا مانگی
احساس یتیمی پھر ہونے لگا زینب کو
جب غازی نے بی بی سے مرنے کی رضا مانگی
ظالم نے طلب کی ہے وہ بچی کنیزی میں
ہائے شبیر نے جو بیٹی تجھ سے اے خدا مانگی
یارب مجھے دکھلا دے کیسی ہے میری صغری
یہ آخری ہچکی میں اکبر نے دعا مانگی
ہائے رکھ دیتی تھی ہاتھ اپنے ماں بچی کے ہونٹوں پر
جب بالی سکینہ نے مرنے کی دعا مانگی
صغری نے دعاؤں میں سجاد نہ کچھ مانگا
بعد علی اکبر جو مانگی تو قضاء مانگی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.