Kya tum mere hussain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Mir Hasan Mir
پتھر ہٹا کے لاش سے زینب نے دی صدا
کیا تم میرے حسین ہو
کیسے پڑے ہیں جسم کے ٹکڑے جدا جدا
کیا تم میرے حسین ہو
ہائے ہائے میرے غریب کا کیا حال کر دیا
گھوڑوں سے لاشہ دشت میں پامال کر دیا
پہچانوں کس طرح سے بدن سے ہے سر جدا
کیا تم میرے حسین ہو
پتھر ہٹا کے لاش سے۔۔۔
پہچان لونگی میں تمہیں آواز مجھکو دو
دم توڑتے جو دیکھا ہے کڑیل جوان کو
آنکھوں میں اب بہن کی اجالا نہیں رہا
کیا تم میرے حسین ہو
پتھر ہٹا کے لاش سے۔۔۔
پہچاننا تمہارے لئے بھی کٹھن ہوا
دیکھا ہے پہلی بار جو زینب کو بے ردا
آتی ہے شرم جلد بتادو مجھے ذرا
کیا تم میرے حسین ہو
پتھر ہٹا کے لاش سے۔۔۔
کرتا رہا ہے ذبح کوشش کہاں کہاں
خنجر کے ہیں کٹی ہوی گردن پہ بھی نشاں
کاٹا ہے کس طرح سے ستمگار نے گلا
کیا تم میرے حسین ہو
پتھر ہٹا کے لاش سے۔۔۔
کیا لے گئے ہیں لوٹ کے سب کچھ یہ اشقیاء
تن پر بچا ہے ماں کا یہ کرتہ سلا ہوا
نکلے تھے جب قیام سے یہ حال تو نہ تھا
کیا تم میرے حسین ہو
پتھر ہٹا کے لاش سے۔۔۔
آہستہ سے جواب دو ہے ساتھ اسکی ماں
کیا اب تمہارے پاس ہے معصوم بے زباں
ننھا سا لاشہ کس کا یہ سینے پہ ہے رکھا
کیا تم میرے حسین ہو
پتھر ہٹا کے لاش سے۔۔۔
دیکھو بندھی ہے ہاتھوں میں میرے بھی رسیاں
اب اور لو بہن کی نہ غربت کا امتحاں
کچھ تو جواب دو مجھے صغرا کا واسطہ
کیا تم میرے حسین ہو
پتھر ہٹا کے لاش سے۔۔۔
وہ بھی تمہاری طرح سے زخمی نہ ہو کہیں
دل کو میرے یہ لگتا ہے موجود ہے یہیں
آتی ہے ماں کے رونے کی نزدیک سے صدا
کیا تم میرے حسین ہو
پتھر ہٹا کے لاش سے۔۔۔
زینب پکاریں میر تکلم بصد ملال
کیا مرتے وقت بھی میرے پردے کا تھا خیال
ہے مٹھیوں میں کس لئے یہ خاک کربلا
کیا تم میرے حسین ہو
پتھر ہٹا کے لاش سے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.