Suno Siffeen Suno
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mir Hasan Mir
قرآن شجاعت سے میں یاسین سُناؤں
دِل والو صفیں باندھو میں صفین سُناؤں
کیا خیمۂ حیدرؑ میں ہے صفین کا منظر
جھرمٹ میں ستاروں کی ہے اِک چاند زمیں پر
حیدرؑ کے پسر چاروں طرف بیچ میں حیدرؑ
یہ دیکھ کے حیران ہے خود مالکِ اشتر
آئینہِ نور ایک سبھی عکسِ جلی ہیں
مولا کہوں کس کو یہاں سارے ہی علیؑ ہیں
بیٹوں سے مخاطب ہوا عمران کا بیٹا
دل مجھ سے یہ کہتا ہے میرا اے بنی زہراؑ
یعنی ہے یہ خالق کے ارادے کا ارادہ
میداں میں لڑے آج کوئی بیٹا علیؑ کا
کھل جائے کہ ولیوں کا ولی لڑتا ہے کیسے
میں بھی تو ذرا دیکھوں علیؑ لڑتا ہے کیسے
اِک گوشے سے سُن کر یہ اُٹھا کوئی دِلاور
قد تیرہ برس میں ابوطالبؑ کے برابر
صورت میں علیؑ حمزہ صفت عزم میں جعفر
سرتاپا قدم قدرتِ معبود کا پیکر
زہراؑ کی صدا آئی کہ الماس لڑے گا
حسنینؑ کے بابا میرا عباسؑ لڑے گا
گویا ہوا پھر دستِ ادب جوڑ کے ضیغم
اے محرمِ اسرارِ خُدا خالقِ آدمؑ
حسرت ہے ہماری بھی لڑائی یہ لڑیں ہم
وعدہ رہا یہ آپ سے اے قبلہِ عالم
زہراؑ کی تمنا کا عکاس نہ کہنا
دُشمن نہ علیؑ کہہ دیں تو عباسؑ نہ کہنا
سج بن گیا خیمے میں جو حیدرؑ کا دُلارا
صدقہ میرے غازیؑ کا وفاؤں نے اُتارا
چہرے پہ نقاب آپ یہ کرتا تھا اشارہ
تاریخ نے دیکھا کہاں پھر ایسا نظارہ
پردے میں کچھ اس طرح سے عباسِ جلی تھے
جیسے پسِ پردہ شبِ معراج علیؑ تھے
خیمے سے برآمد ہوا حیدرؑ کا غضنفر
غیض و غضب و روب و جلال آئے غضب پر
تیار نظر آیا جو لشکر پسِ لشکر
جبریلؑ نے دم نادِعلیؑ کر لی پروں پر
ہیبت تھی عجب سانس فرشتوں کے چڑھے تھے
خود موت سے چھپ کر ملک الموت کھڑے تھے
کس شیر کی آمد ہے کہ رَن کانپ رہا ہے
رَن ایک طرف چرخِ کہن کانپ رہا ہے
رُستم کا بدن زیرِ کفن کانپ رہا ہے
ہر قصرِ سلاطینِ زمن کانپ رہا ہے
شمشیر بکف دیکھ کے حیدرؑ کے پِسر کو
جبریلؑ لرزتے ہیں سمیٹے ہوئے پَر کو
کس شیر کا میداں میں اُترتا ہے جگر بند
اعدا پہ کیا موت نے ہر زیست کا دَر بند
منہ کھولیں ہیں حیرت سے زبانیں ہیں مگر بند
لشکر ہوا نظروں میں دِلاور کی نظر بند
توبہ کا نہ دَر رحمتِ عالم کا کُھلا ہے
سب بند ہیں بس رستہِ جہنم کا کُھلا ہے
جس سمت چلا تیغ اُٹھائے وہ بہادر
سب طائرِ ارواح اُڑے جسموں سے پُر پُر
دہشت سے تھا ہر ایک گُرو بھولے ہوئے گُر
تھا تیغ کی جھنکار میں پنجم کا عجب سُر
آواز یہی اہلِ دغا دیتے تھے بھاگو
سب راگ پہاڑی میں صدا دیتے تھے بھاگو
یکبار کیا شیر نے حملہ جو جھپٹ کر
پتوں کی طرح جسم کی شاخوں سے گرے سر
سُن سُن جو چلی تیغ اُلٹنے لگے لشکر
پیغام علیؑ کا یہ ہوا نے دیا آ کر
ارے دِل کھول کے لڑ لو نہ تَرَدُّد میں رہو تم
عباسؑ یہیں روک دوں سورج جو کہو تم
تلوار سے ڈر ڈر کے نڈر بھاگ رہے تھے
تھی موت اُدھر رَن میں جدھر بھاگ رہے تھے
بھاگا نہیں جاتا تھا مگر بھاگ رہے تھے
جلدی میں بدن چھوڑ کے سر بھاگ رہے تھے
سانس اُن کے رُکے تھے کہ جو میداں میں رُکے تھے
زندوں کی یہ حالت تھی کہ مُردوں میں چُھپے تھے
کہتی تھی اَجل دشت سے بے جان سمیٹو
یہ ہاتھ یہ سر جسم یہ دندان سمیٹو
اے زخمیوں بکھرے ہوئے اوسان سمیٹو
گھر جاؤ میری مان لو سامان سمیٹو
مرتے ہو جوانی میں عجب ذوق ہے تم کو
کیا خودکشی کرنے کا بہت شوق ہے تم کو
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.