Kya sitam tha
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Mir Raza Ali
کیا ستم تھا کربلا میں
درد و غم تھا کر بلا میں
ہائے زہرا کے پالے پہ شمرِ لعیں کا قدم تھا
کربلا میں
کیا ستم تھا کربلا۔۔۔
جلتی ریت پر پڑے تھے
نہ بھتیجے نہ پسر تھے
دھوپ شدت کی تھی پیاس سے ہونٹوں پہ دم تھا
کربلا میں
کیا ستم تھا کربلا۔۔۔
چو طرف کو دیکھتے تھے
پانی پانی مانگتے تھے
کون آتا مدد کو شہیدوں کا سر سب قلم تھے
کربلا میں
کیا ستم تھا کربلا۔۔۔
نکلی زینب خاک اُڑاتی
پیٹتی تھی اپنی چھٹی
دیکھتی کیا ہے نیزے پہ سر شاہِ دین کا علم تھا
کربلا میں
کیا ستم تھا کربلا۔۔۔
سب چرندے رو رہے تھے
سب پرندے رو رہے تھے
دیکھ حال شاہِ کربلا کی ہر اک چشم نم تھا
کربلا میں
کیا ستم تھا کربلا۔۔۔
حرملا جب تیر مارا
خون اُگل کر وہ سدھارا
اپنے بابا کے گردن پہ گردن کیئے اپنی خم تھا
کربلا میں
کیا ستم تھا کربلا۔۔۔
ڈھل گئی وہ پیاری گردن
گر پڑے وہ دونوں جوشن
خون سے چھوٹا کُرتا وہ ننھا سا نم تھا
کربلا میں
کیا ستم تھا کربلا۔۔۔
بچہ ہاتھوں پر اُٹھا کر
مانگتے تھے پانی سرور
ہائے وہ چھ مہینے کے بچے کا ہونٹوں پہ دم تھا
کربلا میں
کیا ستم تھا کربلا۔۔۔
اے بہادر ظلم شاہ پر
جو جو گزرے اُنکے اوپر
آج تک ایسا دیکھا سُنا ہی نہیں جو ستم تھا
کربلا میں
کیا ستم تھا کربلا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.