Kund khanjar na
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Safdar Abbas
گرم ریتی پہ سر دشت عجب ہے منظر
کوئی سایہ ہے جو دیتا ہے صدا رو رو کر
دیکھ زخمی ہے مسافر ہے میرا لختِ جگر
کم سے کم پانی سے تر کر لے لعیں تو خنجر
قبر کو چھوڑ کے یاں آی ہوں دلگیر ہوں میں
نام زہرا ہے میرا مادر شبیر ہوں میں
کند خنجر نہ چلا شمر ستمگر رک جا
واسطہ رب کا تجھے بہر پیمبر رک جا
اس کے فرزند جواں نے ابھی کھای برچھی
اس کے سینے میں ہے پیوست وہ نیزے کی انی
زخم پر زخم نہ دے اب تو ستمگر رک جا
کند خنجر نہ چلا۔۔۔
اس کے چہرے پہ لہو اصغر بے شیر کا ہے
گھاؤ سینے میں ابھی اس کے کسی تیر کا ہے
ہے ابھی سجدہء معبود میں یہ سر رک جا
کند خنجر نہ چلا۔۔۔
ایک بھائی تھا جو بیکس کی کمر توڑ گیا
اک بھتیجا تھا بلکتا ہوا جو چھوڑ گیا
میں دعا دونگی تجھے ہاتھ اٹھا کر رک جا
کند خنجر نہ چلا۔۔۔
بے گلا جسکو سمجھتا ہے تو سرور کا گلا
غور سے دیکھ یہ ہے تیرے پیمبر کا گلا
کچھ نہ سمجھے تو یہی بات سمجھ کر رک جا
کند خنجر نہ چلا۔۔۔
جرم کیا ہے میرے بچے کا تو اتنا تو بتا
اس کے نانا کا پڑھا کرتا ہے تو بھی کلمہ
منتظر اس کی ہے اک چھوٹی سی دختر رک جا
کند خنجر نہ چلا۔۔۔
ایسا لگتا ہے کہ ہمشیر نہیں ہے تیری
ورنہ رکھتا نہیں پیاسے کے گلے پر تو چھری
خیمے کے در پہ ہے مظلوم کی خواہر رک جا
کند خنجر نہ چلا۔۔۔
چکیاں پیس کے محنت سے اسے پالا ہے
اس نے جو کہہ دیا قدرت نے کہاں ٹالا ہے
یہ دلا سکتا ہے جنت میں تجھے گھر رک جا
کند خنجر نہ چلا۔۔۔
صفدر خستہ جگر غم یہ بیاں کیسے کروں
چشمِ زہرا جو سے ٹپکا تھا وہ اک قطرۂ خوں
تو بھی ریحان قلم رکھ دے یہ کہہ کر رک جا
کند خنجر نہ چلا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.