Naam e Shabbir Liya Phir Nahi Thehra Paani
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Pyaas
نام شبیر لیا، پھر نہیں ٹھہرا پانی
دل سے اک ہوک اٹھی آنکھ سے برسا پانی
جس کی ماں کے ہیں تصرف میں یہ بہتے دریا
ہائے اس تشنہ دہن کو نہ پلایا پانی
علقمہ شرم کے مارے تھی چراتی آنکھیں
لب اصغر کے لیے دشت میں ترسا پانی
اک نظر دیکھا نہیں آنکھ اٹھا کر اس کو
پاؤں پڑتا تھا وفادار کے پیاسا پانی
ہو گئے بازو قلم، مشک زمیں پر آئی
دشت میں رہ گیا خیموں میں نہ پہنچا پانی
کربلا والے شہیدوں کی بہت یاد آئی
شدت پیاس میں جب سامنے آیا پانی
یہ سبیلیں جو محرم میں نظر آتی ہیں
لوگ پیتے ہیں عزادار کا صدقہ پانی
نذر کرنا ہے مجھے بارگاہ اصغر میں
ساحل آنکھوں کے لیے رب سے ہے مانگا پانی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.