Bin bazuo ke utra hai Abbas zeen se
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mir Hasan Mir
ہائے کلثوم رو کے کہتی تھیں ام البنین سے
بن بازوؤں کے اترا ہے عباس زین سے
کلثوم رو کے کہتی ہیں ام البنین سے
بن بازوؤں کے اترا ہے عباس زین سے
بابا کا زخم یاد ہے گہرا تھا کس قدر
ایسے ہی تھا دو نیم میرے باوفا کا سر
حیدر کی طرح خون تھا جاری جبین سے
امید پیاسے بچوں کی مجھ سے جڑی رہے
وہ چاہتا تھا مشک سکینہ بچی رہے
یوں تیر روکتا رہا اپنی جبین سے
روح علی کے بین تھے ہائے میرا سفیر
سر پر بھی گرز بازو جدا آنکھ میں بھی تیر
بدلہ میرا لیا ہے میرے جانشین سے
اک آنکھ میں تھا تیر تو اک آنکھ میں لہو
خیمے کی راہ ڈھونڈ رہا تھا وہ چار سو
اک گرز نے گرا دیا بیکس کو زین سے
غازی کی موت حال یہ زینب کا کر گئی
لگتا تھا جیسے ثانی زہرا بھی مر گئی
ایسے گری وہ جیسے گرا بھائی زین سے
سقا حرم کا دشت میں بے جان ہو گیا
اب مارنا حسین کو آسان ہو گیا
یہ شور اٹھ رہا تھا سپاہ لعین سے
اکبر بہن یہ بولی غضب کی جفا ہوئی
اصغر کے جیسی لاش میرے بھائی کی بچی
عابد نے اس کے ٹکڑے چنے ہیں زمین سے
اماں میں اپنے بیٹے کا ماتم نہ کر سکی
حد یہ ہے قید ہو کے میں جب شام کو چلی
بازو اٹھا کے چوم نہ پائی زمین سے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.