Kohraam mach gaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Mir Hasan Mir
الوداع الوداع
خیمے میں آکے شاہ نے جب الوداع کہا
کہرام مچ گیا
تھا جس کا انتظار وہ ساعت قریب ہے
دن ڈھل رہا ہے شامِ مصیبت قریب ہے
کچھ دیر کی ہے بات قیامت قریب ہے
زینب غریب بھائی کی رخصت قریب ہے
یہ کہہ کے مانگا ماں کا جوکُرتہ سلا ہوا
کہرام مچ گیا۔۔۔
کچھ دور ہٹ کے خیمے میں بولے شہِ زمن
زحمت نہ ہو تو بازو بڑھاؤ ذرا بہن
میں بوسے لوں وہاں کے بندھے گی جہاں رسن
بازو بڑھا کے روتی تھی ہمشیر خستہ تن
بھائی بہن کے بازو کو جب چومنے لگا
کہرام مچ گیا۔۔۔
یہ سن کے بنتِ فاطمہ زہرا تڑپ گئی
بولی گلا بڑھاؤ بس اب جلد یا اخی
اماں کی بات آج مجھے یاد آگئی
میں بوسے لوں وہاں کے چلے گی جہاں چھری
زینب نے بڑھ کے چوما برادر کا جب گلا
کہرام مچ گیا۔۔۔
بیٹی سے پھر یہ کہنے لگا فاطمہ کا لال
رہنا پھوپھی کے پاس رکھیں گی تیرا خیال
غربت ہے تم پھوپھی سے نہ کرنا کوئی سوال
ورنہ تیرے پدر کو بہت ہوئے گا ملال
پھر سر پہ ہاتھ رکھ کے جو دینے لگے دُعا
کہرام مچ گیا۔۔۔
بیٹی کو جب سپردِ بہن کرچکے امام
روکر بہن سے کہنے لگے آسماں مقام
جانا وطن جو قید سے چھٹ کر اے تِشنہ کام
کہنا لحد پہ ماں کی میراآخری سلام
آیا جو لب پہ فاطمہ زہرا کا تذکرہ
کہرام مچ گیا۔۔۔
عابد سے پھر یہ کہنے لگے شاہِ کربلا
بیواؤں اور یتیموں کا اب تم ہو آسرا
جو امتحان میرا تھا سب میں نے دے دیا
آگے تیرا جہاد ہے بیمارِ کربلا
بیمار بیٹا باپ سے جس دم جدا ہوا
کہرام مچ گیا۔۔۔
خیمے سے باہر آئے جو سلطانِ کربلا
سر کو جھکائے روتا تھا خود اسب باوفا
اب کس طرح سوار ہو زہرا کا لاڈلا
تنہائی کے سواکوئی یاور نہیں بچا
جب سوئے نہر دیکھ کے غازی کو دی صدا
کہرام مچ گیا۔۔۔
بھائی کو تنہا دیکھ کے زینب تڑپ گئی
روتی ہوئی حسین کے نزدیک آگئی
اور پھر رکاب تھام کے بولی اے شاہِ دیں
لو میں سوار کرتی ہوں عباس گر نہیں
واعظ ہوا سوار جو زہرا کا لاڈلا
کہرام مچ گیا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.