Deewar o dar ke darmiyan zakhmi hai Fatima
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Qamar Baltistani
دیوار و در کے درمیاں زخمی ہے فاطمہ
آؤ علی مدد کو بلاتی ہے فاطمہ
ہاں وہ کہ جس کو رحمت عالم کہا گیا
جس نے کبھی کسی پہ ستم ہی نہیں کیا
لوگو اسی رسول کی بیٹی ہے فاطمہ
چوما جسے رسول نے وہ در جلا دیا
کیا امت رسول کو آئی نہیں حیا
یہ بات سوچ سوچ کے روتی ہے فاطمہ
چہرے کو اپنے رکھتی ہے گھر میں بھی ڈھانپ کے
مارا ہے جب سے اس کو طمانچہ لعین نے
اب پردہ بیٹیوں سے بھی کرتی ہے فاطمہ
بازو میں اس کے کیل لگی سر سے خوں رواں
پہلو شکستہ ہوگیا، ٹوٹی ہیں پسلیاں
سنبھل نہ سکے، یہی سوچ کے، علی رو دیئے
سانسیں نہ جانے کس طرح لیتی ہے فاطمہ
رونے پہ شاہزادی کے پہرا لگا دیا
اپنا وطن ہی جس گھڑی پردیس ہو گیا
مطلب یتیم ہونے کا سمجھی ہے فاطمہ
اب کون میرے بعد ہے بچوں کی میرے آس
ہائے میرے حسین کو لگتی بہت ہے پیاس
زخموں سے بڑھ کے اس پہ تڑپتی ہے فاطمہ
اب تک ستم رکا نہیں ازلان اعظمی
تربت پہ ہائے زہرا کی سایہ نہیں کوئی
مہدی تمہارا راستہ تکتی ہے فاطمہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.