Zahra Ka Janaza
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Syed Wajhi Hasan Zaidi
زہرا کے جنازے سے یتیموں کو چھڑا کر
جب بند کفن باندھ چکے چہرا چھپا کر
فضہ نے دلاسہ دیا سینے سے لگا کر
رو رو کے علی کہتے تھے میت کو اٹھا کر
ہیں ٹوٹی ہوئی پسلیاں آہستہ اٹھانا زہرا کا جنازہ
یہ عام جنازہ نہیں ہے پہلو شکستہ زہرا کا جنازہ
ہاں کتنی وہ مظلوم تھی اپنے ہی وطن میں
کفنائی گئی سات رداؤں کے کفن میں
بس چودہ مسلمانوں نے یثرب میں اٹھایا
زہرا کا جنازہ
تکلیف کی شدت سے کفن میں بھی ہیں آنسو
در گرنے سے ہے آج بھی ٹوٹا ہوا بازو
فضہ سے یہ پوچھے کوئی کہ زخمی ہے کتنا
زہرا کا جنازہ
ہاں جس نے ہمیں پالا ہے کیا یہ وہی ماں ہے
چہرے پہ نشاں ہاتھ پہ درے کا نشاں ہے
منہ پھیر کے رونے لگے بچوں نے جو دیکھا
زہرا کا جنازہ
بیٹا وہ ابھی راستہ بھولا ہی کہاں تھا
قنفذ نے جہاں زہرا کو مارا تھا طمانچہ
ماں کہہ کے حسن رو دیئے جب اس جگہ پہنچا
زہرا کا جنازہ
جب پیچھے جنازے کے چلیں ثانی زہرا
قدموں کی صدا سن کے علی نے یہ پکارا
گھر چھوڑ کے آؤ حسن آگے نہیں بڑھتا
زہرا کا جنازہ
نا پاؤں میں بیڑی ہے نا زنجیر بدن پر
تنہائی میں روتے رہے یہ سوچ کے حیدر
زندان میں سجاد سے کس طرح اٹھے گا
زہرا کا جنازہ
زہرا ہے کہاں دفن خبر ہو نہ کسی کو
جب تربتیں چالیس علی کھود چکے تو
دفنایا نہیں قبر میں رو رو کے چھپایا
زہرا کا جنازہ
دفنانے لگے جب علی بچوں کی مدد سے
ذیشان و وجیہہ اٹھ گئے دو ہاتھ لحد سے
جب بولے علی لیجئے اے زہرا کے بابا
زہرا کا جنازہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.