Kisi ki mayyat tadap
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Ali Zia Rizvi
یہ شام عاشور کا ہے منظر
ہے کرب میں عطرت پیمبر
جبین پہ ساحل پہ علقامہ کے
کسی کی میت تڑپ رہی ہے
یہ کوئی محو بکا ہے شاید
کسی نے عمو کہا ہے شاید
بڑھا ہے شاہد کوئی ستمگر
جبین پہ ساحل پہ علقامہ کے
کسی کی میت تڑپ رہی ہے
وہ بھولی بھالی سی اک بچی
نجف کی جانب جو تک رہی تھی
کسی نے چھینے ہیں اس کے گوہر
جبین پہ ساحل پہ علقامہ کے
کسی کی میت تڑپ رہی ہے
عطش سے بچے مچل رہے ہیں
یہ پھول شعلوں میں جل رہے ہیں
چمن میں کملا گئے گل تر
جبین پہ ساحل پہ علقامہ کے
کسی کی میت تڑپ رہی ہے
ہجوم غم سے جو نیم جان ہے
وہی جو بیمار ناتواں ہے
کسی نے کھینچا ہے اس کا بستر
جبین پہ ساحل پہ علقامہ کے
کسی کی میت تڑپ رہی ہے
رہی جو کوفے کی شہزادی
کسی نے شاید اسے صدا دی
چھینی ہے کوثر اب اس کی چادر
جبین پہ ساحل پہ علقامہ کے
کسی کی میت تڑپ رہی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.