Alamdar Na Aaya
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Nadeem Sarwar
اے اہل حرم میر و علمدار نہ آیا
سقائے حسین سید و سالار نہ آیا
جب خون میں تر آیا عباس کا وہ پرچم
تپتی ہوئی ریتی پر اطفال تھے سب بے دم
سرور نے کیا نوحہ زینب نے کیا ماتم
چلائے حرم غازی و جرار نہ آیا
مولا کی کمر ٹوٹی جس دم یہ خبر آئی
مارا گیا دریا پر شبیر کا شیدائی
خوں بھر گیا آنکھوں میں جاتی رہی بینائی
مقتل سے سکینہ کا وہ غمخوار نہ آیا
زہرا کے گھرانے کا وہ ضامن چادر تھا
مسلک میں تھی سقائی کردار میں حیدر تھا
جس وقت کٹے بازو غازی کے بہے آنسو
لینے گئے مولا وہ دل افگار نہ آیا
حکم شہ والا پر دریا کو اٹھا لاتا
کیا کرتا بھلا غازی محروم اجازت تھا
کوشش تو بہت کی پر لاکھوں میں گھرا تنہا
جب مشک چھدی پھر وہ وفادار نہ آیا
وہ شیر دلاور تھا تنہا بھی جو لشکر تھا
افسوس لب دریا اک لاشہ بے سر تھا
ھل من کی صدا سنتا روتا تھا تڑپتا تھا
شیر کا شیدا وہ مددگار نہ آیا
بچوں کی صدائیں تھیں عباس چچا پانی
اک مشک لہو دے کر اک مشک بھرا پانی
اس مشک سکینہ سے جس وقت بہا پانی
وہ مر گیا دریا پہ حیا دار نہ آیا
ریحان سے سرور سے ہو درد بیاں کیسے
جس شیر کی ڈھارس پر آباد رہے خیمے
جلتے ہوئے خیموں سے گھبرا کے جو زینب نے
کتنی بھی صدائیں دیں وہ اک بار نہ آیا
جلتے ہوئے خیموں سے زینب کی صدا آئی
اے بابا علی دیکھو بیٹی کی یہ تنہائی
یہ مشک و علم آیا، آیا نہ میرا بھائی
بابا میرے کنبے کا طرفدار نہ آیا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.