Zainab Bibi Ujar Gayi Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Nadeem Sarwar
جلتے ہوئے خیمے ہیں یہ شام غریباں ہے
بے گور و کفن لاشے یہ شام غریباں ہے
اک شور ہوا خانہ حیدر ہوا طراز
ناموس نبی کا زر و زیور ہوا طراز
العطش العطش کہتی ہے سکینہ
اللہ اللہ یہ شان نبی کی
اجڑ گئی ہے زینب بی بی
مدینہ، ویران مدینہ، ویران
یہ فاطمہ زہرا کی ہاں لاڈلی بیٹی ہے
اجڑی ہوئی اک ماں کی اجڑی ہوئی بیٹی ہے
نازوں کی پلی زینب اب خاک پہ بیٹھی ہے
لو راکھ ہوئے خیمے اک شور قیامت ہے
اجڑی ہے ابھی زینب آغاز مصیبت ہے
پردیس میں بے پردہ زہرا کی شباہت ہے
کوئی نہ رہا باقی شبیر کے لشکر کا
حلقہ ہے بیبیوں کا ماتم ہے بھرے گھر کا
زینب نے لیا پرسہ رو رو کے بہتر کا
عباس چلے آؤ زینب کا یہ نوحہ ہے
بے آس تیرا کنبہ صحرا میں اکیلا ہے
زینب کی صداؤں سے میدان لرزتا ہے
تنہائی کا عالم ہے اور گھور اندھیرا ہے
زینب کو مصائب کے سیلاب نے گھیرا ہے
یا شاہ نجف آؤ کے دور سویرا ہے
بے چین سکینہ ہے رہ رہ کے جو روتی ہے
دے دے کے صدائیں وہ عمو کو بلاتی ہے
زینب لیے گودی میں معصومہ کو بیٹھی ہے
شہزادی نے کیا دیکھا یہ تو ہے میرا بابا
بیٹی کو کلیجے سے حیدر نے جو لپٹایا
نوحہ لب زینب پر بے ساختہ یہ آیا
مقتل کے اندھیرے میں بڑھنے لگا اک سایہ
اجڑی ہوئی زینب کا دل سینے میں گھبرایا
زینب نے بہت روکا لیکن وہ بڑھا آیا
زینب کے تڑپنے پر مقتل میں قیامت تھی
یہ سوچ کے روتے ہیں ریحان بھی سرور بھی
کیا گزری تھی زینب پر جب شام الم آئی
گھر لٹ گیا اے بابا دیکھو میری تنہائی
نہ گود میں بچے ہیں نہ سر پے رہا بھائی
چادر نہ بچا پائی میں رو بھی نہیں پائی
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.