Karti thi bain ran
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Nasir Zaidi
کرتی تھی بین رن میں رو رو کے ہائے زینب
اے بھائی تیرا لاشہ کیسے اٹھائے زینب
کرتی تھی بین رن میں۔۔۔
عباس ہے نہ اکبر سب قتل ہو چکے ہیں
کوئی نہیں ہے زندہ کس کو بُلائے زینب
کرتی تھی بین رن میں۔۔۔
کیسے اُٹھائے آ کر تپتی ہوئی زمیں سے
سائے میں تیرا لاشہ کس طرح لائے زینب
کرتی تھی بین رن میں۔۔۔
سُنتا نہیں ہے کوئی فریاد بے کسوں کی
کیا کیا ستم ہوئے ہیں کس کو بتائے زینب
کرتی تھی بین رن میں۔۔۔
بابا کی منتظر ہے در پر کھڑی سکینہ
شِہ قتل ہو چکے ہیں کیسے بتائے زینب
کرتی تھی بین رن میں۔۔۔
عباسِ با وفا کا لاشہ تڑپ رہا تھا
جب رن میں ظالموں نے چھینی ردائے زینب
کرتی تھی بین رن میں۔۔۔
سر پر ردا نہیں ہے خیمے بھی جل چُکے ہین
میداں میں رو رہی ہے سر کو جھُکائے زینب
کرتی تھی بین رن میں۔۔۔
زینب نے یوں تڑپ کر عباس کو صدا دی
تھرا رہے تھے لاشے سُن کر صدائے زینب
کرتی تھی بین رن میں۔۔۔
عباس جلد آئو چھانے لگے اندھیرے
دشتِ بلا میں تنہا گھبرا نہ جائے زینب
کرتی تھی بین رن میں۔۔۔
دل کیوں نہ خون روئے جاتی ہے قید ہو کر
آئی ہے کس طرح سے کیا بھول جائے زینب
کرتی تھی بین رن میں۔۔۔
ناصر دُعا ہے میری بی بی قبول کر لے
گوہر جو لکھ رہا ہے نوحے برائے زینب
کرتی تھی بین رن میں۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.