Karbobala lahoo ka
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Ali Zia Rizvi
کرب و بلا لہو کا سفر دیکھتی رہی
مقتل کی سمت راہ گذر دیکھتی رہی
مقتل میں ایڑیوں کو رگڑتا رہا پسر
آنکھوں سے خوں بہاتی ہوئی باپ کی نظر
برچھی میں نوجواں کا جگر دیکھتی رہی
کرب و بلا لہو کا ۔۔۔
بیٹوں نے یوں خیال رکھا اپنی بات کا
جال سے گذر گئے نہ کیا رخ فرات کا
ماں اپنی تربیت کا اثر دیکھتی رہی
کرب و بلا لہو کا ۔۔۔
لے کر عبا میں آئے جگر کو شہِ زمان
لاشے کو دکھ کر سامنے ابن حسن کی ماں
دلہن کے چشم تر کے گوہر دیکھتی رہی
کرب و بلا لہو کا ۔۔۔
جب خیمہ گاہ جا نہ سکا شیر لوٹ کر
حزن و علم سے حضرت عباس نامور
بے آب مشک خوں میں تر دیکھتی رہی
کرب و بلا لہو کا ۔۔۔
جس وقت کائنات کی گردش بھی تھم گئی
خیمے کے در پہ مادر مضطر کھڑی رہی
پیکان حرملا تیرا شر دیکھتی رہی
کرب و بلا لہو کا ۔۔۔
خنجر کی پیاس خوں سے بچھا کر اٹھا لعین
آغوش میں بریدہ بدن کو لئے زمین
نوک سناں پہ شاہ کا سر دیکھتی رہی
کرب و بلا لہو کا ۔۔۔
شاہد رکھا امام نے غربت میں بھی لحاظ
انسانیت نظر کو جھکائے بعد نیاز
زانو پہ شہہ کے جون کا سر دیکھتی رہی
کرب و بلا لہو کا ۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.