Yeh Shaam e Ghariban Hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Nadeem Sarwar
وہ خیمے جل رہے ہیں یہ شام غریباں ہے
یہ بن میں بکھری لاشیں اب شام کا زنداں ہے
اک دو پہر میں اجڑا گھر ایسے فاطمہ کا
تھے جس جگہ پہ خیمے اب اس جگہ دھواں ہے
اکبر نے جب اذاں دی یہ بیکسی کہاں تھی
وہ صبح کی اذاں تھی یہ شام کی اذاں ہے
بے سر کوئی نمازی بے دست کوئی غازی
سینے میں اک جواں کے ٹوٹی ہوئی سناں ہے
پہرا بدل گیا ہے زینب ہے کربلا ہے
زینب کے ہاتھ میں اب عباس کا نشاں ہے
کیا ڈھونڈتی ہے سینہ آ پاس آ سکینہ
سینے پہ سونے والی بابا تیرا یہاں ہے
مولا علی جو آئے زینب پکاری ہائے
گھر لٹ گیا ہے بابا کنبہ لہو لہاں ہے
اب شام کا سفر ہے ہر بی بی ننگے سر ہے
بے جرم قیدیوں کا سجاد سارواں ہے
بازار شام دیکھا دربار شام دیکھا
شام غریباں ہر دم زینب کی نوحہ خواں ہے
ریحان ہوں کہ سرور ہیں سیدہ کے نوکر
اک نوحہ گو ہے ان کا اک ان کا نوحہ خواں ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.