Dekho Ae Kufio
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Nadeem Sarwar
دیکھو اے کوفیو میں زینب دلگیر ہوں
سر ننگے مجھے کیوں ہے پھرایا میں وارث تطہیر ہوں
جس کا سجدہ قلب یزداں میں سمایا وہ حسین
گر کے گھوڑے سے زمیں پر جو نہ آیا وہ حسین
سر پہ اپنے جس کو تیروں نے اٹھایا وہ حسین
میں اسی مظلوم کربل کی دکھی ہمشیر ہوں
آل احمد کا تماشا دیکھنے آئے ہو کیوں؟
اپنی غیرت کا جنازہ دیکھنے آئے ہو کیوں؟
بے بدن نیزوں پہ لاشہ دیکھنے آئے ہو کیوں؟
میں اسی مظلوم کربل کی دکھی ہمشیر ہوں
بے کفن جلتی زمیں پر آج بھی سوتا ہے جو
اشک کی کھیتی زمیں پر آج بھی بوتا ہے جو
بے ردائی پر میری نیزے پہ بھی روتا ہے جو
میں اسی مظلوم کربل کی دکھی ہمشیر ہوں
پوچھتے ہو مجھ سے رونے کا سبب اہل جفا
ہیں تمہاری عورتیں پردے میں اور میں بے ردا
میرے بچے میرا بھائی بے خطا مارا گیا
میں اسی مظلوم کربل کی دکھی ہمشیر ہوں
جس کا غازی سو گیا دریا کنارے تشنہ لب
کٹ گئے بازو جری کے اور کیا ہوگا غضب
بے ردا میں ہوگئی ہوں جس کے مرنے کے سبب
میں اسی مظلوم کربل کی دکھی ہمشیر ہوں
وہ پس گردن سے جس کو تیرہ ضربیں مار کر
کاٹ کے سر لاش بے سر چھوڑ دی تھی خاک پر
پھر اسی کی لاش پر لے آئے مجھ کو ننگے سر
میں اسی مظلوم کربل کی دکھی ہمشیر ہوں
شام کے دربار میں ریحان تھی آہ و بکا
بے کفن بھائی کی بے چادر بہن نے جب کہا
اے خدائے لم یزل بے گور ہے بھائی میرا
میں اسی مظلوم کربل کی دکھی ہمشیر ہوں
بوڑھے کاندھوں پر اٹھا کر لایا جو اکبر کی لاش
دفن کردی جس نے جلتی خاک میں اصغر کی لاش
بے کفن بے گور ہے جس شاہ بحر و بر کی لاش
میں اسی مظلوم کربل کی دکھی ہمشیر ہوں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.