Karbala walon pa
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Ali Zia Rizvi
کربلا والوں پہ جو گذری وہ قیامت اور ہے
ہر پیمبر پر جو آئی وہ مصیبت اور ہے
عصر تک جو جانے کیا ہو پیاس کی شدت کا حال
صبح سے عاشور کے سورج کی حدت اور ہے
---کربلا والوں پہ
کٹ کے سر دارالاعمارہ پر ہے شہہ کا منتظر
کوفیوں مسلم کا انداز سفارت اور ہے
---کربلا والوں پہ
کھینچی ہے سینہ اکبر سے برچھی کی انی
آخری یہ شاہ دیں بیٹے کی خدمت اور ہے
---کربلا والوں پہ
ریگ زار گرم پر چادر بچھاتے ہیں حسین
کیا کریں کہ لاشہ قاسم کی حالت اور ہے
---کربلا والوں پہ
باب خیبر کا اٹھانا وہ شجاعت اور تھی
تیر کھا کر مسکرانا یہ شجاعت اور ہے
---کربلا والوں پہ
دشمنان کربلا پھر معرکہ آرائ ہے آج
مجلس و ماتم کی شاہد اب ضرورت اور ہے
---کربلا والوں پہ
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.