Kehti thi Zainab haye Hussaina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Zainab (s.a) recited by Nadeem Sarwar
کہتی تھی زینب ہائے حسینا
ہوگئی برباد یہ بہنا کرب و بلا میں
صبح عاشور اذان علی اکبر کی قسم
میرے بھائی پہ چلے تیر ہزاروں پیہم
چپ رہی کرب و بلا ہوتے رہے ہم پہ ستم
کربلا کچھ نہ دیا کرب و اذیت کے سوا
میرے دامن میں بچا کیا ہے مصیبت کے سوا
کربلا تجھ سے ملا کیا ہے قیامت کے سوا
بھائی اٹھارہ تھے دو بیٹے تھے کوئی نہ رہا
اب تو تنہائی میری دیتی ہے مجھ کو پرسہ
کیا بھرا گھر تھا میرا کر دیا مجھ کو تنہا
میرا اٹھارہ برس والا جیالا اکبر
کھا گئی اس کو بھی اے کرب و بلا تیری نظر
میں نے دیکھا ہے اسی لال کا برچھی میں جگر
بے خطا قتل ہوا بھائی میرا جنگل میں
سینکڑوں زخم کلیجے پہ لگے اک پل میں
آگ پانی میں لگا دی ہے میرے آنچل میں
میرے عباس پہ کیا گزری بتاؤں کیسے
مشک اک بھرنے میں دو بازو قلم ہو کے گرے
اس کے مرنے سے ہے محروم بہن چادر سے
تا قیامت رہے ریحان عزائے سرور
خون دل بہتا رہے آنکھ سے آنسو بن کر
یہ صدا کانوں سے ٹکراتی ہے اب بھی اکثر
میرے اللہ مجھے شام تلک جانا ہے
کوئی بھی اپنا نہیں شہر بھی بیگانہ ہے
تیری خوشنودی میں رسی میں میرا شانہ ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.