Ujar Gaya Hai Karwan
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shame Ghariban recited by Rehan Rizvi
اجڑ گیا ہے کارواں، نہیں ہے کوئی پاسباں
مصیبتوں کے دشت میں ہیں بے امان بیبیاں
پڑے ہیں لاشے ریت پہ کوئی یہاں کوئی وہاں
کسی کے بازو ہیں جدا کسی کے سینے میں سناں
ہیں سر بریدہ بے کفن وہ دین حق کے ترجماں
نبی کے نور عین پر تھی ساری خلق نوحہ خواں
کوئی پسر کو روتی ہے تو غم سے کوئی نیم جاں
کسی کا والی مر گیا کوئی پدر کی نوحہ خواں
کوئی لئے ہے گود میں جلی ہوئی سی لکڑیاں
تھپکتی خالی گود ہے، ہے یاد آتا بے زباں
اندھیرے بن میں خوف سے لرز رہی ہیں بیبیاں
صدائیں دیتی پھرتی ہیں وہ الامان و الاماں
کلیجے سب کے ہو گئے ہیں سوز رنج سے تپاں
زمین مضطرب ہوئی تو خون رویا آسماں
جو لوٹنے کو مال و زر حرم میں آئے اہل شر
کسی کی لوٹ لی ردا کسی کے چھن گئے گہر
یتیم بچے سہم کے بکھر گئے ادھر ادھر
جلے ہوئے خیام سے فضاء ہوئی دھواں دھواں
صدا ہے شور و شین کی فغاں ہے یا حسین کی
وا حسرتا، وا غربتا کے درد ناک بین کی
ہیں خاک اڑاتی بیٹیاں امام مشرقین کی
سروں کو اپنے پیٹتی ہیں نوحہ خوان کشتہ گاں
وہ ہولناک کربلا کی شب کٹی سحر ہوئی
اسیر ہو کے نینوا سے آل مصطفی چلی
ہے اک مریض ناتواں پڑی ہے جس کے ہتھکڑی
بندھا ہے پشت ناقہ سے حرم کا بن کے سارباں
یہ کیسے کوئی لکھے گا، کرے گا کوئی کیا بیاں
یہ غم عجم عجیب ہے، عجیب ہے یہ داستاں
ریحان جس پہ روتا ہے وہی ہے شام بیکساں
یہ ماتم حسین ہے رہے گا حشر تک رواں
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.