Abbas Aa Rahay Hain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Nadeem Sarwar
اک شور ہے الامان
اک ہاتھ میں علم اور مشک سکینہ
چہرہ ہے والقمر کی ضیاؤں سے نور نور
آنکھوں سے جھانکتا ہوا والنجم کا سرور
بالا قدی ہے ایسی کہ شرمائے کوہ طور
زلفیں دراز ایسی کہ والیل کا شعور
کاندھے پہ مشک، مشک میں دل ہے دلیر کا
دریا کو چھین لینا نہیں کام دیر کا
احسان تشنگی میں ملے گا نہ غیر کا
بگڑا ہوا مزاج ہے حیدر کے شیر کا
تیور بتا رہے ہیں قیامت اٹھائے گا
تیغ نظر سے اس کی خدا ہی بچائے گا
آیا جو سامنے کوئی وہ مارا جائے گا
اک مشک میں فرات کو بھر کر دکھائے گا
پیاسہ ہے شیر گھاٹ کا رستہ نہ روکنا
آنکھیں جھکاؤ شیر کی جانب نہ دیکھنا
کیسے بچے گی جان یہ لازم ہے سوچنا
عباس ہے جلال میں ہرگز نہ ٹوکنا
خیمے کے در پہ پیاسی سکینہ تھی منتظر
جنبش علم کی دیکھ کے دیتی تھی یہ خبر
تشنہ لبوں دعا میں تمہاری ہوا اثر
وہ دیکھو آ رہا ہے چچا کا علم نظر
قبضہ ہوا فرات پر القصہ مختصر
پانی کو دیکھا پھٹ گیا عباس کا جگر
آنکھیں لہو لہو ہوئیں بچوں کی پیاس پر
بالی سکینہ بچوں سے کہتی رہی ادھر
برحق ہے موت کہتی ہے قرآن سی کتاب
سب کو فنا ہے چاند ہو تارے ہوں آفتاب
ہوگا ندیم سرور و ریحان جب حساب
کہہ دیں گے ہم خدا سے کہ دینے کو اب جواب
آیا علم ضرور مگر خون میں بھرا
زینب نے سر کو پیٹ کے شبیر سے کہا
کیوں خم کمر ہے آپ کی غازی کہاں گیا
بولے حسین اب کوئی پیاسہ نہ دے صدا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.