Dil se juda kabhi gham e maula nahi kiya
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Mir Hasan Mir
دل سے جدا کبھی غم مولا نہیں کیا
اے ماں تمہارے خون کو رسوا نہیں کیا
غم کھا کے اشک پی کے گزارا کیا مگر
ہم نے کبھی ضمیر کا سودا نہیں کیا
بھاگا مقابلے سے جو میدان چھوڑ کر
اس کا خدا کے شیر نے پیچھا نہیں کیا
گر مانگ لیتے بھیک میں دے دیتیں خود بتول
تم نے فدک کو چھین کے اچھا نہیں کیا
جب تک نہ لے لی کرب و بلا سے رضائے حج
میں نے طواف خانہ کعبہ نہیں کیا
تم ان پہ کر رہے ہو بھروسہ کمال ہے
جن پر کبھی نبی نے بھروسہ نہیں کیا
غدار تھا غدیر کا جس نے رسول سے
کرنے کو وعدہ کر لیا پورا نہیں کیا
موجوں کی خنکی پاس نہ آ جائے اس لیے
اصغر نے اپنا رخ سوئے دریا نہیں کیا
ہیبت سے صرف فوج ستم بھاگنے لگی
عباس نے ابھی کوئی حملہ نہیں کیا
نہ آشنا ہے مقصد سرور سے وہ ظفر
آباد جس نے اپنا مصلی نہیں کیا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.