Sar nange jab
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Shaam recited by Tableegh e Imamia
سر ننگے جب حرم گےء دربار شام میں
شور و فغاں تھا مرقد خیرالانام میں
راوی نے حال خانۂ زنداں ہے یوں لکھا
وحشت میں مثل قبر اور آفت میں کربلا
آی جو شب اسیروں پہ صدمہ ہوا سوا
نہ فرش تھا نہ سایہ نہ پانی تھا نہ غذا
شمعوں کی روشنی نہ چراغوں کی روشنی
تھی ماتم حسین کی دعوں کی روشنی
سر ننگے جب حرم۔۔۔
بانو کو سر جو دشت میں اس دم نظر پڑا
اصغر کو قید خانے میں دل ڈھونڈنے لگا
دوڑی وہ قتل گاہ کی جانب برہنہ پا
زینب لپٹ کے بولی کے بھابھی ہوا ہے کیا
زنداں سے بھی کہاں جانے پاتے ہیں
وہ بولی کیا کروں علی اصغر بلاتے ہیں
سر ننگے جب حرم۔۔۔
اس وقت یاد آتی ہے اصغر کی واردات
میدان سونا لاشوں پہ لاشہ اندھیری رات
جنگل میں مارے ڈر کے وہ معصوم خوش سفا
پہلو میں مجھکو ڈھونڈتا ہوگا اٹھاے ہاتھ
جانے دو مجھکو جانے دو اب جان جاتی ہے
اصغر کے رونے کی مجھے آواز آتی ہے
سر ننگے جب حرم۔۔۔
مسلم کی بیوہ رو کے لگی کرنے التماس
اصغر تو قتل گاہ میں لاش پدر کے پاس
بی بی ہمارے درد و خلق کو کرو خیال
رکھتی ہوں چار داغ جگر پر میں بے حواس
دو بیٹے قتل گاہ میں ہیں تن پہ سر نہیں
دو آے تھے جو کوفے میں ان کی خبر نہیں
سر ننگے جب حرم۔۔۔
والی کی لاش ہے در کوفہ پہ بیکفن
رونے کو ان کی لاش پہ ماں ہے نہ ہے بہن
کبرا پکاری سب سے سوا ہے میرا محن
کنگنے کی جا بندھی میرے ہاتھ میں رسن
لوگوں کہو یہ ظلم ہوا قید خانے میں
میرے سوا دلہن ہے قید خانے میں
سر ننگے جب حرم۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.