Sakina so rahi hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Mir Hasan Mir
سنائی کس نے یہ زنداں میں لوری
سکینہ سو رہی ہے
خدارا زور سے بولے نہ کوئی
سکینہ سو رہی ہے
کہا بانو نے اٹھو شاہ زادی
ہوئی کیا بات جو مادر سے روٹھی
اٹھو بابا کا سر آیا ہے بی بی
مگر زنداں کی ہر دیوار بولی
سکینہ سو رہی ہے
تمہارے گوشوارے مل گئے ہیں
در زندان سارے کھل گئے ہیں
رہائی مل گئی جاتی ہوں گھر کو
مگر سجاد کی آواز آئی
سکینہ سو رہی ہے
نہ اب مارے گا کوئی بھی طمانچے
نہ ہونگے پھر سے یہ رخسار نیلے
گلا باندھا نہ جائے گا رسن میں
جو آیا شمر تو اس سے کہوں گی
سکینہ سو رہی ہے
ردا چھوٹی سی اک سر پر اڑھادوں
چلو عباس سے تم کو ملادوں
تمہاری مشک ہے اور ان کا سینہ
جو دیکھے آسماں کہتا ہے وہ بھی
سکینہ سو رہی ہے
رسن کا زخم اشکوں سے دھلا دوں
تیرے بالوں سے یہ مٹی چھڑادوں
تیرے تلوؤں کے چھالوں کی دوا دوں
اجل بولی کہ یہ کیسے چلے گی
سکینہ سو رہی ہے
ہوئے جب شام کے سائے بھی گہرے
پرندے چہچہاتے جا رہے تھے
کہا بانو نے اے اڑتے پرندوں
صدائیں روک لو کچھ دیر اپنی
سکینہ سو رہی ہے
اندھیرا رویا سناٹے سے مل کر
فلک گرنے لگا دھرتی کے اوپر
ہلانے پر بھی جب بچی نہ
جاگی
تو بولی یہ فضاؤں کی خموشی
سکینہ سو رہی ہے
بنانے قبر جب سجاد اٹھے
تو وہ ناد علی دہرا رہے تھے
بندھے ہاتھوں سے چاہا قبر کھو دے
اچانک پاؤں کی زنجیر جھنکی
سکینہ سو رہی ہے
عجب کی جا ہے یہ ریحان دیکھو
بلند آواز سے ہر گز نہ بولو
یہاں تو فاتحہ بھی دھیرے پڑھنا
یہاں آواز ہو جائے نہ اونچی
سکینہ سو رہی ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.