Momino hydere karar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on General recited by Tableegh e Imamia
مومنوں حیدر کرار بلاتے ہیں تمہیں
داستان غم شبیر سناتے ہیں تمہیں
دل عابد کا ہر ایک زخم دکھاتے ہیں تمہیں
خود بھی روتے ہیں سر بزم رلاتے ہیں تمہیں
جلتے خیموں سے جو شعلوں کی لپک آتی ہے
شام کے دشت میں بجلی سی چمک جاتی ہے
مومنوں حیدر کرار۔۔۔
صف ماتم ہے بپا اس میں بھی شرکت ہو جائے
چند آنسوں جو بہا لوگے عبادت ہو جائے
سر کھلے آؤ کہ تکمیل محبت ہو جائے
اس طرح حضرتِ شبیر کی بیعت ہو جائے
فاطمہ زہرا بھی ہے سید ابرار بھی ہے
یہی مجلس ہے جہاں احمد مختار بھی ہے
مومنوں حیدر کرار۔۔۔
چشمِ حیدر میں ہے آنسوں زرا ماتم کر لو
صف عزادار کی اس بزم میں قیام کر لو
جو تعلق ہے نبی زادوں سے محکم کر لو
غم شبیر کو ہر حال میں محرم کر لو
یا حسین ابنِ علی کہتے رہو
اشک بن بن کے سر کربوبلا بہتے رہو
مومنوں حیدر کرار۔۔۔
دیکھو شبیر کا کچلا ہوا لاشہ دیکھو
ننھی سی قبر میں اصغر کا جنازہ دیکھو
علی اکبر کا ابلتا ہوا سینہ دیکھو
کتنا مجبور ہے سقاے سکینہ دیکھو
بھای نے پای شہادت رہا تنہا بھای
پیاس اے حسین علی اصغر کی نہ بجھنے پای
مومنوں حیدر کرار۔۔۔
مجلسِ شام غریباں ہوی برپا لوگوں
بیکفن سوتی ہے لاش دل زہرا لوگوں
تین دن ہو گےء پیاسی ہے سکینہ لوگوں
اب تو دو زینب دلگیر کو پرسہ لوگوں
کس قدر آل محمد پہ ستم ٹوٹے ہیں
ظالموں نے بڑی شدت سے حرم لوٹے ہیں
مومنوں حیدر کرار۔۔۔
کہیں یاسین کہیں طاہا کی تجلی ان میں
کہیں رحمان و مزمل کی تشفی ان میں
کہیں کوثر کہیں اسرا کی تعلی ان میں
کہیں تطہیر کی پر نور تسلی ان میں
نام ہم کونسا لے سیکڑوں نام ان کے ہیں
آرزو جن کا نہیں کوئی امام ان کے ہیں
مومنوں حیدر کرار۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.