Safar jo tay hua
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Irfan Hussain
سفر جو طےء ہوا زانو بہ زانو رو رو کر
پدر خمیدہ کمر آیا لاش اکبر پر
میں تیرے لاش پہ آیا ہوں اس طرح اکبر
بڑے جتن سے ہٹایا ہے راہ سے لشکر
ہر ایک قدم پہ ستاتے تھے مجھکو اہل شر
سفر یہ کیا تھا اگر پوچھتے ہو نور نظر
ضعیفی پاؤں کی زنجیر ٹھوکروں کا سفر
پدر خمیدہ۔۔۔
سفر جو طےء ہوا۔۔۔
سناں تھی سینۂ اکبر میں ہاتھ سینے پر
جو دیکھا باپ نے بیٹے کا یہ دکھی منظر
تمام حسرتیں دل کی ہوی یوں خاک استر
سیاہ زلفوں میں جالی اتر گیء اکثر
یہ کیا بپا کیا امت نے ظلم کا محشر
پدر خمیدہ۔۔۔
سفر جو طےء ہوا۔۔۔
یہ جس شقی نے کیا ظلم میرے لال بتا
اسے پتہ نہیں کیسا ہے درد بیٹے کا
میری ضعیفی پہ اس نے زرا ترس کیا
ہمیں جو حالت غربت میں ایسا درد دیا
شقی نے خون سے بھر دی شبیہ پیغمبر
پدر خمیدہ۔۔۔
سفر جو طےء ہوا۔۔۔
یہ حال پوچھ رہے تھے کہ سانس تلخ ہوی
ہاں اس سے پہلے کہ آ جائے موت کی ہچکی
حیات چھوڑ دے اکبر کے ساتھ فکر ہوئی
پسر سے خواہش آخر حضور نے پوچھی
بیان ہو کوی خواہش اے میرے نورِ نظر
پدر خمیدہ۔۔۔
سفر جو طےء ہوا۔۔۔
بڑھا کے ہاتھ یہ اکبر نے کی صدا بابا
سکون دل کے لئے ہو اگر عطا بابا
نہیں ہے کوی طلب اس کے کچھ سوا بابا
دکھاییےء تو ہے صغرا کا حال کیا بابا
بچھڑ کے ہم سے وہ رہتی ہے کس طرح مضطر
پدر خمیدہ۔۔۔
سفر جو طےء ہوا۔۔۔
ہلایا ہاتھ جو مولا نے لے کے نام خدا
ہجاب ہٹ گیا منظر تھا سامنے گھر کا
اور ایک کونے میں بیٹھی تھی خاک پر صغرا
یہ دیکھنا تھا کہ وا غربتا کی آی صدا
بہن کی دیکھ کے حالت تڑپ گیا اکبر
پدر خمیدہ۔۔۔
سفر جو طےء ہوا۔۔۔
بس آگے جون تھا یوں حال باپ بیٹے کا
گلے لگا کے کہا باپ نے سنو بیٹا
سفر حیات کا اب ہو گیا تمام اپنا
تمہارے پیچھے چلے آیینگے تیرے بابا
کہ رہ گیا ہے فقط سجدہ ایک تح خنجر
پدر خمیدہ۔۔۔
سفر جو طےء ہوا۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.