Haye haye ali asghar
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Asghar (a.s) recited by Mir Hasan Mir
ماں کے دلارے علی اصغر
آنکھوں کے تارے علی اصغر
آگ لگی ہے خیموں میں
اے میرے اصغر پیارے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے جھولے سے لپٹ کر
ہاے ہاے علی اصغر
ظالم نے تجھے قبر سے اس طرح نکالا
سینے پہ لگا جس گھڑ یبیٹا تیرے نیزہ
لاشے کو تیرے دیکھ کے بولا سر اکبر
ہاے ہاے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے۔۔۔
قاتل تیرا مل جاے تو خود پوچھلوں اس سے
کیا جرم تھا چھ ماہ کے بچے کا بتا دے
اس نے تو بلایا نہیں ماں بھی مجھے کہہ کر
ہاے ہاے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے۔۔۔
اب تک میری آنکھوں سے وہ منظر نہیں جاتا
گردن سے تیری خون ٹپکتا رہا بیٹا
رومال بھی باندھا نہ گیا تیرے گلے پر
ہاے ہاے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے۔۔۔
جس تیر سے ناقے کو گراتا ہے زمیں پر
وہ تیر لگا ننھے سے حلقوم پہ آ کر
تم خون اگلتے رہے بابا سے لپٹ کر
ہاے ہاے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے۔۔۔
تم مر گےء یہ بات وہ اب تک نہیں مانی
ضد کرتی ہے بھای کو پلاؤں گی میں پانی
کوزہ لیےء مقتل میں کھڑی ہے تیری خواہر
ہاے ہاے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے۔۔۔
مجبور تھی گھر میں میرے پانی ہی نہیں تھا
ورنہ تو دھلا دیتی میں یہ خوں بھرا چہرہ
دادی سے شکایت نہیں کرنا میری جا کر
ہاے ہاے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے۔۔۔
مارا ہے ستمگر نے سکینہ کو طمانچہ
غازی کی طرح تم سے بھی دیکھا نہیں جاتا
بند آنکھیں کیےء روتے ہو تم نوک سناں پر
ہاے ہاے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے۔۔۔
سر اس لیے نیزے سے گرا دیتے ہو اپنا
گودھی میں میری آنا ہے شاید تمہیں بیٹا
لیکن ہیں بندھے ہاتھ اٹھا سکتی نہیں سر
ہاے ہاے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے۔۔۔
سجاد وہ کہتی تھی چلا بھی نہیں جاتا
دو چار قدم بعد ہی گر جاتی ہوں بیٹا
میری بھی کمر خم ہے تیری لاش اٹھا کر
ہاے ہاے علی اصغر
ماں کہتی تھی جلتے ہوے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.