Lahad mein roti hain Zahra labon pe hai noha ae muntaqim mere
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Fatema (s.a) recited by Syed Wasif Naqvi
لحد میں روتی ہیں زہرا لبوں پہ ہے نوحہ اے منتقم میرے
تمہاری ماں پہ ستم کیا کیا لوگوں نے ڈھایا اے منتقم میرے
میں چودہ صدیوں سے اک سوگ کے حصار میں ہوں
کب آؤ گے میرے مہدی میں انتظار میں ہوں
کہ میرے قاتلوں سے تم نے بدلہ ہے لینا اے منتقم میرے
تم آؤ گے تو میں ہر اک ستم بتاؤں گی
جو زخم ہے میرے چہرے پہ وہ دکھاؤں گی
ہے لینا ظالموں سے تم نے انتقام میرا اے منتقم میرے
جو لکڑیاں میری چوکھٹ پہ لے کے آیا تھا
اور ان سے جس نے بھی زہرا کا در جلایا تھا
تم اس کو ہاتھوں سے خود آگ میں جلا دینا اے منتقم میرے
میری کوئی بھی گواہی کسی نے نہ مانی
سند رسول کی ظالم نے بھی نہ پہچانی
علی کو زہرا کو حسنین کو ہے جھٹلایا اے منتقم میرے
جہاں پہ رک کے نبوت سلام کرتی تھی
وہ در کہ مرضی خدا کی جہاں اترتی تھی
لعیں نے ٹھوکروں سے پاک در ہے وہ توڑا اے منتقم میرے
طمانچہ مارا گیا تازیانہ مارا گیا
ہے جلتا در میرے پہلو پہ بھی گرایا گیا
گھری تھی شعلوں میں اور خون میرا بہتا رہا اے منتقم میرے
ہوں جس کی پسلیاں ٹوٹی وہ سانس لے نہ سکے
تڑپتا رہتا ہے وہ درد و غم کی شدت سے
لگا لو زہرا کے دردوں کا اس سے اندازہ اے منتقم میرے
سقیفہ والے ہیں فرمان مصطفی بھولے
کتاب چھوڑ دی اور مرضی خدا بھولے
غدیر خم کو بھلا کر علی کا حق چھینا اے منتقم میرے
اسد ہیں قبر میں نوحہ کناں وہ محرومہ
وہ جن کے بچوں میں محسن شہید ہے پہلا
وہ کہتی ہیں کہ ہوا قتل میرے محسن کا اے منتقم میرے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.