Zainab Ka Baba
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Imam Ali (a.s) recited by Mesum Abbas
آج گھر گھر میں ماتم بپا ہے
قتل زینب کا بابا ہوا ہے
لب پہ جبریل کے یہ بکا ہے
قتل زینب کا بابا ہوا ہے
مجلسوں اور جلوسوں میں ذکر علی
روزہ داروں کی آنکھوں میں غم کی نمی
بوڑھے بچے جواں ہیں سبھی ماتمی
روزہ داروں کے لب پر صدا ہے
کالے کپڑوں میں ہیں آج اہل عزا
ہے لبوں پر صدا یاعلی ایلیا
نوحہ خوانی کہیں اور کہیں مرثیہ
سارے عالم میں غم کی فضا ہے
روزہ داروں کے کاندھوں پہ تابوت ہے
سب ہیں خونی قبا اور روتے ہوئے
یاعلی یاعلی کی جو آواز ہے
ہر عزادار یہ کہہ رہا ہے
کالے پرچم اٹھاتے ہوئے سر بہ سر
شاہراہوں پہ نکلے سبھی نوحہ گر
ایک مجلس سے ہے دوسری کا سفر
ہاں یہ ماحول بتلا رہا ہے
روز راتوں کو کھانا کھلاتا تھا جو
سب یتیموں کے غم کو مٹاتا تھا جو
اب نہیں آئے گا روز آتا تھا جو
یہ ستم بیکسوں پر کیا ہے
رو کے کہتے ہیں حسنین سر پیٹ کر
آئی انیسویں کی یہ کیسی سحر
دیکھا جاتا نہیں باپ کا زخمی سر
قبر زہرا میں آہ و بکا ہے
فرش مجلس پہ میثم یہ نوحہ کرو
جو مصائب ہیں مظہر وہ لکھتے رہو
بی بی زہرا کو اشکوں سے پرسہ بھی دو
بس یہ آغاز کرب و بلا ہے
باپ کے غم میں روتی ہیں سیدانیاں
خاک اڑاتی ہیں کہتی ہیں سب بیٹیاں
زندگی بھر کریں گے یوں آہ و فغاں
یہ قیامت کا غم جو ملا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.