Jawan betay ke seenay mein sina
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Raza Abbas Zaidi
گرے زمین پہ مقتل میں جب علی اکبر
تڑپ کے خیمے سے نکلے حسین تھامے کمر
چلوں میں ساتھ پکاری جو زینب مضطر
بہن کو دیکھ کے بھائی نے یہ کہا رو کر
جوان بیٹے کے سینے میں ہے سناں زینب
نہ دیکھ پاؤ گی تم بھی ہو اس کی ماں زینب
وہ جس کو نازوں سے اٹھارہ سال پالا ہے
میری ہی گود میں وہ لال مرنے والا ہے
میں جب اٹھاؤں گا وہ لاشہ جواں زینب
لعیں نے سینے میں جب سے سناں کو توڑا ہے
میرا غریب پسر درد سے تڑپتا ہے
رگڑ رہا ہے وہ میداں میں ایڑیاں زینب
میری طرف بھی تو دیکھو میں اس کا بابا ہوں
نظر بھی کم ہے کمر خم ہے اور پیاسہ ہوں
گروں گا راہ میں جانے کہاں کہاں زینب
وہ تم کو دیکھ کے روئے گا خود کو سمجھاؤ
ہیں اس کی آخری سانسیں نہ سامنے جاؤ
بہت رلائے گی اکبر کی ہچکیاں زینب
وہ بار بار مدینے کی سمت دیکھتا ہے
صدائیں دیتا ہے صغری کو اور روتا ہے
بہن کی یاد میں الجھی ہے اس کی جاں زینب
دعا کرو کے یہ مشکل کا وقت ٹل جائے
سکون سے میرے بیٹے کا دم نکل جائے
نہ سن سکوں نہ میں اکبر کی سسکیاں زینب
چلے حسین یہ ذیشان اور رضا کہہ کر
سناں کے ساتھ کلیجہ بھی آئے گا باہر
ہے باپ بیٹے کی غربت کا امتحاں زینب
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.