Hussain tanha hai
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Irfan Hussain
بہار سمت سے اہل ستم نے گھیرا ہے
کہاں ہو اے میرے شیروں حسین تنہا ہے
میرے رفیقوں مددگار اب چلے آؤ
گرا ہے بے کسوں غم خوار اب چلے آؤ
نہیں ہے کوئی طرف دار اب چلے آؤ
کہاں ہو اے میرے۔۔۔
کہاں ہو میرے رفیقوں بلا رہا ہے حسین
کہ اب زمیں پہ گھوڑے سے آ رہا ہے حسین
تمہیں یہ نوحہء ھل من سنا رہا ہے حسین
کہاں ہو اے میرے۔۔۔
یہ بے وفائی یہ امت کی داستاں ہےعجیب
کیا ہے دشت میں فرزند مصطفیٰ کو غریب
کہاں ہو حر دلاور کہاں ہو میرے حبیب
کہاں ہو اے میرے۔۔۔
یہ دشت کربوبلا یہ اجل کا سناٹا
یہ بے کسی کی گھٹا اور یہ شور لشکر کا
یہ ریگ گرم یہ فرزند فاطمہ زہرا
کہاں ہو اے میرے۔۔۔
کسی کے ہاتھوں میں خنجر کسی کے ہیں بھالے
یہ دیکھو ٹوٹ پڑے مجھ پہ برچیوں والے
سنو سنو اے میرے ساتھیوں میرے نالے
کہاں ہو اے میرے۔۔۔
نہیں ہے پاس ادب کچھ ستم کی دنیا کو
کیا ہے تیروں نے بے حال ابنِ زہرا کو
ستم گاروں نے ہے گھیرا تمہارے آقا کو
کہاں ہو اے میرے۔۔۔
خبر یہ نہر پہ جاکر زرا سناے کوئی
علی کے شیر کے شانے زرا ہلاے کوئی
میں ذبح ہوتا ہوں کو بتاے کوئی
کہاں ہو اے میرے۔۔۔
بلک بلک کے بھتیجی تمہاری روتی ہے
اٹھا ہے درد جدائی کا جان کھوتی ہے
بس اتنا کہہ دو سکینہ یتیم ہوتی ہے
کہاں ہو اے میرے۔۔۔
لکھے جو بین بہ ہر صورت کمال لکھے
مصیبتوں کی عبادت غموں کا حال لکھے
ملے جو آپ کا عرفان تو پھر بلال لکھے
کہاں ہو اے میرے۔۔۔
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.