Baba Phuppi Amma Se Mera Zakhm Chupana
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Ali Akbar (a.s) recited by Mir Hasan Mir
اکبر نے سناں کھائی ہے ان کو نہ بتانا
بابا پھوپھی اماں سے میرا زخم چھپانا
تصویر محمد ہے بڑے نازوں سے پالی
مر جائے نہ خیمے میں میری پالنے والی
ہرگز یہ میرا ہاتھ نہ سینے سے ہٹانا
کس طرح سے دیکھیں گی وہ ہم دونوں کی غربت
وہ روئیں تو آ جائے گی خیموں میں قیامت
میں زخم چھپا لیتا ہوں تم آنسو چھپانا
اس بار شہادت کو اٹھا لے گی امامت
بھائی سے چھپانا نہیں اک بھائی کی غربت
سجاد کو تفسیر شہادت کی سنانا
ماری ہے سناں سینے پہ یہ کہہ کے لعیں نے
پھولوں کی طرح پالا ہے اکبر کو پھوپھی نے
لاشے پہ عبا خیموں سے پہلے ہی اڑھانا
جو خاک بھری ہے میرے بالوں سے چھڑا دو
چہرے پہ لہو ہے میرے دامن سے ہٹا دو
وہ ضد جو زیادہ کریں بس چہرہ دکھانا
ممتا انہیں لاشے پہ میرے لائیگی بابا
بے ساختہ وہ مجھ سے لپٹ جائیں گی بابا
ممکن ہو تو لاشے سے انہیں دور ہٹانا
اس حال میں دے صبر خدا بنت علی کو
اکبر کا سلام آخری کہہ دینا پھوپھی کو
زندہ بڑا مشکل ہے میرا خیمے میں جانا
یوں نیزہ ستمگار نے مارا میرے بابا
پہلو بھی شکستہ ہے ہمارا میرے بابا
یاد آئے گا دادی کا انہیں زخم پرانا
دم توڑتے اکبر کو نہ پہنچے کوئی صدمہ
منہ پھیر کے یوں روتے ہو معلوم ہے بابا
پر سامنے سادات کے آنسو نہ بہانا
ہر بات میری آپ کی بہنوں کے لیے ہے
بس ایک وصیت میری صغری کے لیے ہے
لا کر خط صغری میرے لاشے پہ سنانا
اس آخری ہچکی میں تکلم ہوا محشر
اکبر نے کہا ہاتھ جو پیشانی پہ رکھ کر
لو ہم کو اجازت دو ہمیں دور ہے جانا
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.