Hussain hussain hussain
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Ashoor recited by Ali Zia Rizvi
جنگل پہاڑ کرتے ہیں ناد علی علی
مشکل کو سب کی حل کرو مشکل کشا علی
حسین حسین حسین
رخصت کو اہل بیت نبی میں گےء امام
قدموں پہ لوٹنے لگی سیدانیاں تمام
وہ شور الفراق کا وہ یاس کے کلام
بچے بھی سر پٹکتے تھے لے لے کے شہ کا نام
روتے تھے یوں تو لپٹے ہوئے سب حسین سے
لیکن کلیجے پھٹتے تھے زینب کے بین سے
حسین حسین حسین
اس وقت تھا جب شاہ دیں پر ہجوم یاس
ڈھلنا وہ دو پہر کا وہ آندھی وہ لو و پیاس
لاشے پڑے ہوئے تھے عزیزوں کے آس پاس
روکر فلک کو دیکھتے تھے شاہ حق شناس
اٹھتا تھا درد دل تو قدم لڑکھڑاتے تھے
فرماکے یا علی ولی بیٹھ جاتے تھے
حسین حسین حسین
بھائی کے سر کو چھاتی سےلپٹا کے یہ کہا
بتلاؤ کیا ارادہ ہے اے میرے مہ لقا
دست ادب کو جوڑ کے بولا وہ باوفا
پیاسی سکینہ مرتی ہے یا شاہ کربلا
گزرے ہیں تین دن یوہی اس پشت پہ پر
گر اذن ہو تو پانی کو جاؤں فرات پر
حسین حسین حسین
یاں چڑھ چکے تھے گھوڑے پہ عباس حق شناس
آی صدا بھتیجی کی سنتے ہی ڈر کے پاس
بولی یہ مشک دیکے سکینہ بہ دردو یاس
قربان عمو جان بجھادو ہماری پیاس
پھٹتا ہے دل عطش سے کلیجہ کباب ہے
سقایء کیجیے کہ یہ کار ثواب ہے
حسین حسین حسین
عباس نے کہا کہ میرا فقر ہے یہ کام
بی بی تمہارے باپ کا ادنیٰ ہے یہ غلام
دی تم نے آبرو مجھے اے دختر امام
اب ہوگیا جہاں میں بہشتی ھمارا نام
کوثر میں سمجھوں دوش پہ گر مشک آب ہو
تم بھی دعا کرو کہ چچا کامیاب ہو
حسین حسین حسین
چھاتی تک اس نے پانی کو دیکھا جو ایک بار
گھوڑے کا دل ہوا صفت موج بیقرار
حسرت سے منہ پھراکے نظر کی سوے سوار
بولے یہ باگ جوڑ کے عباس نامدار
تو پی لے اے فراز کے بہت تشنہ کام ہے
ہم پر تو بے حسین یہ پانی حرام ہے
حسین حسین حسین
بوچھار اک بہ اک ہویء تیروں کی ہاے غضب
تیغیں چلی عقب سے شریروں کی ہے غضب
یہ شکل دو جہاں کے امیروں کی ہے غضب
بجھنے نہ پایء پیاس صغیروں کی ہے غضب
نیزے تھے اور چاند سے پہلو دلیر کے
تیروں نے چھان ڈالا سفینے کو شیر کے
حسین حسین حسین
شانے سے یوں ابل کے بہا خون الاماں
تھراکے جھومنے لگے عباس نوجواں
مچھلی کی طرح ہاتھ تو ریتی پہ تھا تپاں
لیکن جدا نہ ہوتی تھی قبضے سے انگلیاں
بے دست ہوگیء تھی جو اس تفدری کے ساتھ
تلوار بھی تڑپتی تھی دست جری کے ساتھ
حسین حسین حسین
رستے میں لڑکھڑاتے تھے جب ضعف سے قدم
اکبر سنبھال لیتے تھے بابا کو دم بہ دم
فرماتے تھے تڑپ کے پسر سے شہ امم
جو حال ہو بجا ہے کہ بھای کا ہے الم
بازو پکڑ کے دلبر زہرا کو لے چلو
بیٹا چچا کی لاش پہ بابا کو لے چلو
حسین حسین حسین
غل پڑگیا کہ شہ کے علمدار ہاے ہاے
اے نور چشم حیدر کرار ہاے ہاے
اے ابن فاطمہ کے مددگار ہاے ہاے
اے فوج شہ کے جعفر طیار ہاے ہاے
چھوٹے سے ہاتھ رکھ کے دل درر ناک پر
دے مارا سر کو بالی سکینہ نے خاک پر
حسین حسین حسین
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.