Bhai ko khuda bhai ka lasha na dikhaye
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Hazrat Abbas (a.s) recited by Mir Hasan Mir, Mir Qasim Mir
بھائی کو خدا بھائی کا لاشہ نہ دکھائے
لاشے پہ علمدار کے شہ کہتے تھے ہائے
پھٹ جائے گا غم سے میرا دل تھام لو عباس
اب دیر بہت ہوگئی گھر کو چلو عباس
ایسا نہ ہو مقتل میں سکینہ چلی آئے
کیا ثانیء زہرا کو میں بتلاؤں گا بھیا
میں لاش سے اٹھ کر تو نہیں جاؤں گا بھیا
اب شمر یہیں آکے چھری مجھ پہ چلائے
ہو گیا مرنا ستم عباس کا
عباس پانی لاؤ، عباس پانی لاؤ
یا رب کسی دشمن پہ بھی یہ وقت نہ آئے
اب ہاتھوں میں لرزہ ہے کہاں جان رہی ہے
مظلوم کی غربت میں کمر ٹوٹ گئی ہے
گردے سکینہ دیکھو حلقہ کئے ہوئے ہیں
بن آب نہ مر جائیں پانی انہیں پلاؤ
ہاتھوں میں خالی کوزے بچے لئے ہوئے ہیں
بچے نہ جانے کب کا پانی پئے ہوئے ہیں
ماں بہنیں ہیں ہمشکل پیمبر کے حوالے
میں مشک و علم کرتا ہوں اکبر کے حوالے
ہمت نہیں شبیر میں جو خیموں میں جائے
پہلو میں سدا میں نے بٹھایا تمہیں بھائی
جس بھائی نے گودی میں اٹھایا تمہیں بھائی
وہ بھائی بھلا کیسے تیری لاش اٹھائے
ٹوٹ گئی آس میری ٹوٹ گئی آس
دیر ہوئی میرے چچا جان کو سدھارے
اکبر و بابا ہیں گئے نہر کنارے
ارے اماں میرا قلب جلا پیاس کے مارے
ٹوٹتے جاتے ہیں میرے دل کے سہارے
سادات ہیں یہ شام کے لشکر کو بتاؤ
جاتے ہوئے یہ شمر سے کہتے ہوئے جاؤ
وہ میری سکینہ کو طمانچے نہ لگائے
سادات یہ کہتے ہیں کہ ہم پیاسے رہیں گے
تم نے نہ پیا پانی تو ہم بھی نہ پیئیں گے
اللہ ہمیں پیاسہ ہی دنیا سے اٹھائے
اکبر کو ابھی جانے دو ہم نے تو کہا تھا
اولاد تو مل جاتی ہے بھائی نہیں ملتا
شبیر کہاں سے تمہیں اب ڈھونڈ کے لائے
مڑ مڑ کے تکے جاتے تھے عباس کا لاشہ
گرتے کبھی اٹھتے تھے تکلم شہ والا
اکبر بڑی مشکل سے سنبھالے ہوئے آئے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.