Keh Rahi Thi Sakina Ae Baba Mere
Noha Lyrics & Urdu Writeup on Bibi Sakina (s.a) recited by Syed Mehdi Rizvi
کہہ رہی تھی سکینہ اے بابا میرے
شمر نے ہر قدم پر رلایا مجھے
ہر گھڑی اک مصیبت تھی میرے لئے
شمر نے ہر قدم پر رلایا مجھے
خشک ہے پیاس سے اب بھی میری زباں
آپ کے بعد میں ہو گئی بے اماں
شمر جیسا شقی سامنے ہے یہاں
ایک پل کو بھی میرے نہ آنسو رکے
شمر نے ہر قدم پر رلایا مجھے
آئی شام غریباں قیامت ہوئی
آگ خیموں میں ہائے لگائی گئی
میرا دامن جلا اور میں روتی رہی
شام غربت میں در میرے چھینے گئے
شمر نے ہر قدم پر رلایا مجھے
کیا بتاؤں جو ہے عالم تشنگی
قطرہء آب کو میں ترستی رہی
مجھ کو کوزہ ملا ہے نہ بھر کے کبھی
وقت گزرا ہے جی بھر کے پانی پیئے
شمر نے ہر قدم پر رلایا مجھے
مجھ کو جی بھر کے ہر دم ستایا گیا
آپکی لاش پر سے ہٹایا گیا
بابا میرے غموں کو بڑھایا گیا
کمسنی میں مجھے تازیانے لگے
شمر نے ہر قدم پر رلایا مجھے
شام و کوفہ میں روتی بلکتی تھی میں
بابا تم کو وہاں یاد کرتی تھی میں
تھی زمیں گرم اور اس پہ چلتی تھی میں
میرے پیروں میں بابا تھے چھالے پڑے
شمر نے ہر قدم پر رلایا مجھے
مجمعء عام میں ہم کو لایا گیا
ہر طرف تھے عدو اور ہم بے ردا
ہم پہ ہر اک ستم ہو گیا تھا روا
تھے سبھی کے گلے اک رسن میں بندھے
شمر نے ہر قدم پر رلایا مجھے
اتنے دکھ اور ستم سہہ گئی غمزده
شام میں آج بھی ہے وہ محو بکا
تب ہی اظہار یہ لکھ کے روتا رہا
آ رہی ہے صدا اب بھی زندان سے
شمر نے ہر قدم پر رلایا مجھے
قافلہ بیکسوں کا تھا جس دم رواں
تھا سفر اور میری زباں پر فغاں
کوئی اپنا تھا پردیس میں کب کہاں
اونٹ سے جب گری میں بتاتی کسے
شمر نے ہر قدم پر رلایا مجھے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.