Tera Takallum Chehak Raha Hai
Manqabat Lyrics & Urdu Writeup on Imam Mehdi (a.s)
ترا تکلم چہک رہا ہے مثال گلشن مہک رہا ہے
زمانے والوں کو خار یہ ہے نہ رک رہا ہے نہ تھک رہا ہے
زمین مدحت پہ تیرا دشمن بلک رہا تھا بلک رہا ہے
ہماری سیف قلم سے مولا لہو مسلسل ٹپک رہا ہے
جلا کے رکھ دے گا ساری دنیا اگر زبان سخن سے پھوٹا
کسے دکھاؤں ترے علاوہ جو لاوا سینے میں پک رہا ہے
یہ شہر بھی ہے مدینے جیسا کسے سناؤں ترا قصیدہ؟
کوئی ادھر سے کھسک رہا ہے کوئی ادھر سے کھسک رہا ہے
نبی کی بیٹی کے دشمنوں کا شروع کس دن تماشا ہوگا
ہماری آنکھوں کا پردہ مولا تمہارے پردے کو تک رہا ہے
خدا نے حس دی ہے جانور کو یہ بھانپ لیتا ہے زلزلوں کو
غدیر کوسوں ہے دور ابھی سے کسی کا ناقہ بدک رہا ہے
امام آخر سے غیریت بھی، حصول شہرت بھی منفعت بھی
تمہارے کشکول ذاکری میں یہ کس کا سکہ کھنک رہا ہے
کسی کسی کو دکھائی دینے لگا ہے نور خدا کا جلوہ
ظہور صغری تو ہو چکا ہے زمانہ اب تک بھٹک رہا ہے
حضور پرکھوں کی اب وراثت سنبھال لیجے بزور طاقت
ہے آج قبضے میں ایسے کعبہ کہ جیسے باغ فدک رہا ہے
نہ ذکر مہدی پہ منہ بنانا نہ انگلی غیبت پہ تم اٹھانا
طمانچہ پڑ جائے گا غضب کا، علم کا پنجہ لچک رہا ہے
ہے گرم بازار فتوی سازی پٹھارے داروں میں ہیں نمازی
عجیب زیر و زبر ہے دنیا جو بک رہا ہے وہ بک رہا ہے
چلا ہے مکے سے ابن زہرا، صدا یہ دیتا ہے یوم عرفہ
مجھے یہ لگتا ہے آج کعبہ جگہ سے اپنی سرک رہا ہے
بلا کے طور نجف پہ مولا ذرا تکلم سے بات کر لو
تمہاری جانب مثال موسی یہ طفل مکتب ہمک رہا ہے
Want these lyrics offline?
Install the Bayaaz mobile app for iOS and Android to read all 7,000+ lyrics offline, create personalized playlists, and experience seamless audio playback anywhere.